امریکی سینیٹ کے ریپبلکن لیڈر کو چُپ لگ گئی، بولا نہ جا سکا

گزشتہ ماہ کے آخر میں بھی میک کونل اچانک قوت گویائی سے محروم ہوگئے تھے

حقائق تصدیق ٹرینڈنگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سینیٹ میں ریپبلکن رہنما مچ میک کونل تازہ ترین واقعات کے بارے میں میڈیا کے سوالات وصول کرتے ہوئے منجمد نظر آئے اور تیس سیکنڈ سے زیادہ بات کرنے کے لیے رک گئے ۔ جس کی وجہ سے اونچی آواز میں سوال دہرانے کے لیے ان کے محافظ کی مداخلت کی ضرورت پڑی لیکن وہ خاموش رہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب میک کونل کو اچانک بولنا بند کرتے دیکھا گیا ہو۔ گزشتہ ماہ کی چھبیس تاریخ کو انہوں نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران اچانک بولنا بند کر دیا۔

اس وقت ان کی صحت اور مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔ خاص طور پر اس سال کے شروع میں وہ گر گئے تھے تو اسی وقت سے ان کی صحت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ میک کونل میں یہ علامت اس وقت پیدا ہوئی جب صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ 2026 میں سینیٹ کے انتخابات میں دوبارہ حصہ لینا چاہتے ہیں؟

صحافی نے میک کونل سے پوچھا کہ کیا آپ نے سوال سنا، سینیٹر؟ ۔ میک کونل نے جواب نہ دینے کے بعد تبصرہ کیا سب سے معذرت، ہمیں ایک منٹ درکار ہوگا۔ امریکی صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ میک کونل کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے سیاسی اختلافات ہیں لیکن وہ ایک اچھے دوست ہیں۔

26 جولائی کو بھی بااثر سینیٹر کو اسی حالت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ کیپیٹل کی عمارت میں میڈیا کے سامنے بات کر رہے تھے جب وہ بغیر کسی وجہ کے جم گئے۔ اس کے بعد ان کے آس پاس کے لوگ انہیں باہر لے جانے کے لیے پہنچ گئے۔

سینیٹر میک کونل کی حالت کے بارے میں پوچھے جانے پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرن جین پیئر نے کہا کہ میں ان کی جلد صحت یابی کی خواہش مند ہوں۔

مارچ میں سینیٹر کو ایک پرائیویٹ ڈنر پارٹی کے دوران گرنے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ گرنے سے ان کی پسلی ٹوٹ گئی تھی۔ اس کی وجہ سے انہیں تقریباً 6 ہفتوں تک کام کرنا چھوڑنا پڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں