بھارت میں جی 20 سمٹ کی حفاظت کے لیے اینٹی ڈرون سسٹم اور لاکھوں سکیورٹی اہلکار تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بھارت رواں ماہ نئی دہلی کی زیر صدارت G20 سربراہی اجلاس میں دنیا کے سب سے طاقتور لیڈروں کی میزبانی کر رہا ہے جن کی حفاظت کے لیے تقریباً 130,000 سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ یہ سمٹ وزیر اعظم نریندر مودی اور عالمی سطح پر بھارت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

نو ستمبر سے شروع ہونے والی اس دو روزہ سربراہی کانفرنس میں بھارت اب تک اپنے ملک میں دنیا کی بہترین قیادت کا استقبال کرنے جا رہا ہے۔ جس میں امریکی صدر جو بائیڈن سے لے کر برطانوی وزیر اعظم رشی سونک اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان شامل ہیں۔ تاہم نئی دہلی اور بیجنگ کے ذرائع کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ کا اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا امکان ہے۔

جاپان، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی کے رہنما بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی شرکت متوقع ہے، حالانکہ روسی صدر ولادی میر پوتین، جنہیں یوکرین کی جنگ کی وجہ سے مغرب کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی نمائندگی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کریں گے۔

اس کانفرنس میں اقوام متحدہ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔

یہ تقریب وسیع وعریض اور نئے سرے سے تزئین و آرائش کیے گئے بھارتی میوزیم پرگتی میدان میں منعقد ہو گی، جو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے ایک کے وسط میں واقع کنونشن سینٹر سے زیادہ میوزیم ہے۔

"یہ ایک اہم اور تاریخی لمحہ ہے،" دہلی پولیس کے خصوصی کمشنر دیپیندر پاٹھک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، جو شہر میں حفاظتی انتظامات کے انچارج ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ہوم گارڈز اور پیرا ملٹری بارڈر سیکیورٹی فورس سمیت دیگر سرکاری سیکیورٹی سروسز کے ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ " اس موقع پر متوقع احتجاج اور ریلیوں پر قابو پانے کے لیے، ہمارے پاس پولیس کی مناسب اور بھاری نفری موجود ہو گی۔"

اگرچہ پاٹھک شہر میں سکیورٹی کے انچارج ہیں تاہم مرکزی مقام کی حفاظت دہلی پولیس کے ایک اور خصوصی کمشنر رنویر سنگھ کرشنیا کے ماتحت ایک ٹیم کرے گی۔

اگرچہ دارالحکومت نسبتاً پرامن ہے تاہم پچھلے مہینے گروگرام سے ملحقہ صنعتی بستی میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑک اٹھی تھی جس میں کم از کم سات افراد مارے گئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ ہفتے کے آخر میں ہونے والی سمٹ کانفرنس کے دوران، نئی دہلی کے داخلی راستوں کی سخت حفاظت کی جائے گی اور شہر تک رسائی کو منظم کیا جائے گا۔

20 ملین کی آبادی والے شہر کو حکومت سمٹ کے دوران جزوی طور پر بند کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے جس میں سکولوں، سرکاری محکموں اور کاروباری اداروں کو تین دن تک بند رکھنے کا کہا گیا ہے۔

فضائی حفاظت کے اقدامات

حکام نے بتایا کہ تقریباً 130,000 سکیورٹی اہلکاروں سمیت دہلی پولیس کے اسی ہزار چاک چوبند دستے بھی شہر کی حفاظت کے لیے مامور ہوں گے ۔

ہندوستانی فضائیہ کے ترجمان نے عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ " بھارتی فضائیہ دہلی اور قریبی علاقوں میں بھرپور اور جامع ایرو اسپیس ڈیفنس کے لیے اقدامات کرے گی۔"

ترجمان نے کہا کہ ہندوستانی فوج، بشمول فضائیہ، دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ کسی بھی فضائی خطرات کو روکنے کے لیے اینٹی ڈرون سسٹم تعینات کرے گی۔ تقریباً 400 فائر فائٹرز بھی ہمہ وقت کال پر ہوں گے۔

جائے وقوعہ پر سکیورٹی کنٹرول روم قائم کئے جا رہے ہیں اور آئی ٹی سی موریا ہوٹل جیسے اہم ہوٹلوں پر خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جہاں جو بائیڈن قیام کریں گے۔

مودی نے G20 کی صدارت کو ملک بھر میں ایک قومی تقریب میں تبدیل کر دیا ہے، جس میں گروپ کی مختلف میٹنگز ملک کے اہم حصوں بشمول شورش زدہ ریاستوں اروناچل پردیش اور کشمیر میں سری نگر شہر میں منعقد کی جا رہی ہیں۔

سڑکوں، ہوائی اڈوں، بس سٹاپوں، پارکوں، ریلوے سٹیشنوں، سرکاری دفاتر اور سرکاری میڈیا کو سال بھر کے لیے جی 20 کے اشتہارات سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں، نئے فوارے اور آرائشی پودے ٹریفک کے اہم اشاروں کی زینت بنے ہوئے ہیں جبکہ لنگوروں کے لائف سائز کٹ آؤٹ، ایک بڑا بندر جس کا چہرہ سیاہ ہے، شہر کے بندروں کے خطرے سے لڑنے کے لیے کئی علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔

مودی نے سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے جولائی میں دارالحکومت میں $300 ملین کی لاگت سے ایک مقام کا افتتاح کیا- شنکھ کی شکل کی حامل اس عمارت میں تقریباً 3,000 سے زیادہ افراد بیٹھ سکتے ہیں۔

حکومت نے لیڈروں کو لے جانے کے لیے 180 ملین ہندوستانی روپے ($2.18 ملین) کی لاگت سے 20 بلٹ پروف لیموزین بھی لیز پر لی ہیں۔

واضح رہے کہ بہت سے عالمی رہنما اپنے اپنے محافظوں اور گاڑیوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ہندوستان نے ان ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ساتھ لانے والی کاروں اور اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں "روایتی" نہ بنیں، لیکن اس نے اس حوالے سے کوئی پابندی نہیں لگائی ۔

اہلکار نے کہا کہ امریکہ سربراہی اجلاس کے ارد گرد ایک ہفتے کے لیے 20 سے زیادہ طیارے لا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں