تہران میں فرانسیسی ریسرچ سینٹر کو لال موم سے سیل کرنے پر ایرانی ناظم الامور طلب

تہران نے فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ آن ایران کے دروازوں پر سرخ موم لگا کر بند کردیا، فرانس نے اس اقدام کو "جارحانہ " قراردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں تہران میں "فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ آن ایران" کے دروازوں کو سرخ موم سے بند کرنے کے بعد ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کرکے اس پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے وضاحت کی کہ "فرانس نے انسٹی ٹیوٹ کے دروازے سیل کرنے کی مذمت کی۔ اس نے جنوری 2023 میں اس ادارے کو بند کرنے کے یکطرفہ ایرانی فیصلے کی مکمل تعمیل کی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "مرکز کو سیل کرنا فرانس کو ایک صدی سے زائد عرصے سے فرانسیسی اور ایرانی محققین کی نسلوں کے ذریعے جمع کیے گئے قیمتی کاموں کے مجموعے تک رسائی سے محروم کرنے کے مترادف ہیں۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ "ان کاموں کی عمر اور قدر کو دیکھتے ہوئے یہ اقدام اپنے اندر سائنسی تحقیق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا خطرہ رکھتا ہے۔"

فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے تہران کی اہم ترین مذہبی اور سیاسی شخصیت سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے کے بعد ایران نے گذشتہ جنوری میں فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ کو بند کر دیا تھا۔ تاہم گذشتہ اگست اسے مکمل طور پر سیل بند کردیا گیا۔

پیرس نے انسٹی ٹیوٹ کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے اسے پریس کی آزادی پر قدغن قرار دیا۔ بیان میں انسٹی ٹیوٹ کو "ثقافت اور تبادلے کا مرکز قرار دیا گیا جو کہ 1983 میں ایران میں فرانسیسی آثار قدیمہ کے مشن کے انضمام کے بعد 1897 میں قائم کیا گیا تھا۔

وزارت نے جمعرات کو تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلےپر نظر ثانی کرے۔ فرانس اور ایران کے درمیان سائنسی اور فکری تعاون کی قدیم ترین علامتوں میں سے ایک کو نقصان پہنچانا ایرانی حکام کی کشیدگی کی خواہش کاثبوت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں