دو مراکشی کوہ پیماؤں نے ’’کے ٹو‘‘ سر کرلیا، مزید چوٹیاں عبور کرنے کا اعلان

دو بار موت سے بچ گئے ، جاں بحق افغانی کوہ پیما کی منجمد لاش بھی دیکھی: ابراہیم بنونہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش کے دو ایڈونچررز نے چین اور پاکستان کو الگ کرنے والی بلند ترین چوٹی کو سر کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد عالمی سطح پر کوہ پیمائی کے چیلنج میں مراکش کے نام ایک نئی کامیابی حاصل کرلی۔ وہ چڑھائی کے دوران دو بار برفانی تودے گرنے سے موت سے بچ گئے۔

دونوں مہم جوؤں نے 8 ہزار 611 میٹر کی بلندی پر پاک چین سرحد پر واقع کے ٹو پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کی تھی۔ یہ 14 کھڑی پہاڑی چوٹیوں کے درمیان دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے جو ہمالیہ اور قراقم کے سلسلوں کے درمیان تقسیم ہے۔ کے ٹو انتہائی عمودی چوٹی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں مراکش کے کوہ پیماؤں میں سے ایک ابراہیم بنونہ نے انکشاف کیا کہ چوٹی کے سفر میں انہیں تقریباً دو ماہ کا عرصہ لگا۔ اس سے پہلے 3 ماہ سے زیادہ وقت روزانہ سخت مشقیں کی گئیں جو ان کے کھیل کے کیریئر میں بے مثال تھیں۔

مہم جو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چڑھائی کا عمل مزید مشکل ہو گیا کیونکہ وہ کے ٹو پہاڑ کی چوٹی کے قریب پہنچے تو ناکامی کے خوف کی سطح اس وقت بڑھ گئی جب وہ 7 ہزار 300 میٹر کی بلندی پر ایک افغان کوہ پیما کے منجمد جسم کے قریب پہنچ گئے۔ یہ منجمد جسم گزشتہ سال سے اب بھی وہیں موجود ہے۔

صبر کا کڑوا گھونٹ بھرتے ہوئے دو مراکشی مہم جوؤں نے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پہلے چیلنج کی ناکامی سے بچنے کے لیے اترنے کی مشکل پر قابو پانے کے لیے ایک چکر لگایا۔ وہاں سے انھوں نے ایک نئے بڑے چیلنج کا اعلان کیا جس کا مقصد ناروے کی کوہ پیما کرسٹی آریلا کا عالمی ریکارڈ توڑنا تھا۔ یہ چیلنج ہمالیہ کے درمیان 14 پہاڑی چوٹیوں کو سر کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں