کینسر اور پیدائشی امراض کا باعث ہتھیار، یوکرین کے لیے امریکہ کا متنازع تحفہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں اپنے اتحادی یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔ انکل سام کی طرف سے اپنے حلیف ملک کو اب تک مختلف نوعیت کے جنگی آلات اور گولہ بارود فراہم کیے گئے ہیں مگر ان میں ایک متنازع بارودی مواد اس وقت تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔

ہچکچاہٹ کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اپنے اتحادی،برطانیہ کی مثال پر عمل کرنے اور ختم شدہ یورینیم لے جانے والے میزائل کیف بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ یہ تحفہ جسے "ٹینک کلر" کہا جاتا ہے روس کی فوجی پیش قدمی روکنے اور اس کی بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک تباہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

ختم شدہ یورینیم یورینیم کی افزودگی کے عمل کا ایک ضمنی پروڈکٹ ہے۔ اسے میزائلوں میں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی انتہائی کثافت میزائلوں کو آسانی سے بکتر بند تہوں میں گھسنے اور آگ لگانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، جس سے دھول اور دھات کا جھلسا دینے والا بادل پیدا ہوتا ہے۔

’رینڈ‘کارپوریشن کے دفاعی تجزیہ کار اور امریکی فوج میں آرٹلری کے سابق افسر سکاٹ بوسٹن کے بقول "یہ یورینیم شیل ایک مال بردار ٹرین کی طرح ٹکراتا ہے۔ اس کی رینج لمبی ہے اور یہ بہت طاقتور ہے۔"

ایک فائدہ مند اور نقصان دہ گولہ ؟!

تاہم یہ تحفہ ضرر رساں اور مفید سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ واقعی ایک مہلک ہتھیار ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے صحت کے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔

کئی سال پہلے ختم ہونے والے یورینیم کے گولوں کا استعمال بہت بڑا تنازع کھڑا کرتا ہے۔

خطرناک مواد

اس کے مخالفین جن میں یورینیم ہتھیاروں پر پابندی کے لیے سرگرم بین الاقوامی اتحاد بے خبردار کیا ہے کہ یورینیم کے مواد سے تیار ہونے والا یہ گولہ بارود کینسر اور پیدائشی نقائص سمیت سانس لینی کی دشواریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

سابق امریکی فوجیوں کے امور کے محکمہ کا خیال ہے کہ پراجیکٹائل جن میں یورینیم کی کمی ہوتی ہے صحت کے لیے "ممکنہ" خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ اگر یہ مادہ جسم میں داخل ہوتا ہے چاہے ٹکڑوں کے ذریعے ہو یا سانس کے دوران یہ کینسر جیسی موذی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

لیکن اس گولہ بارود کے قریب ہونا صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے، حالانکہ سابق فوجیوں کو صحت کے مسائل کے لیے معذوری کے معاوضے کے لیے دعویٰ دائر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے خیال میں ان کا تعلق ختم شدہ یورینیم کی نمائش سے ہے۔

آپ جوہری توانائی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

امریکہ نے 1990ء اور 2003ء میں عراق جنگوں کے دوران اور 1999ء میں سابق یوگوسلاویہ پر نیٹو کی بمباری کے دوران استعمال شدہ یورینیم کو بھاری مقدار میں استعمال کیا۔

تاہم اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے اعلان کیا کہ سابق یوگوسلاویہ، کویت، عراق اور لبنان میں کیے گئے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ماحول میں پھیلی ہوئی یورینیم کی باقیات کی موجودگی متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے تابکاری کے خطرے کا باعث نہیں بنتی۔ "

البتہ تابکار مواد کی موجودگی جنگ کے بعد یوکرین کے علاقے کو صاف کرنے کے کام کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔

خاص طور پر چونکہ کلسٹر بم اور دیگر گولہ بارود سمیت دیگر اقسام کے نہ پھٹنے والے گولے اور لاکھوں اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں میں بکھری ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں