سوڈان: خرطوم میں فضائی حملے میں 20 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان (السودان) کے دارالحکومت خرطوم میں ایک فضائی حملے میں دو بچّوں سمیت کم سے کم 20 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

خرطوم شہر کے جنوبی علاقے سے تعلق رکھنے والی مزاحمتی کمیٹی کے ارکان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ فضائی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہو گئی ہے۔وہ ان بہت سے رضاکار گروپوں میں شامل ہیں جو جمہوریت کے حق میں پہلے مظاہرے کرتے تھے اور اب فوج اور نیم فوجی جنگجوؤں کے درمیان مسلح تصادم میں پھنسے خاندانوں کو مدد مہیا کرتے ہیں۔

اس سے قبل ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں اور خبردار کیا تھا کہ مزید ہلاکتوں کا اندراج نہیں کیا جا سکا کیونکہ ’’ان کی لاشوں کو اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا کیونکہ وہ بمباری میں بری طرح جھلس گئے تھے یا ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے‘‘۔

عینی شاہدین نے اتوار کے روز بتایا کہ فوج نے خرطوم کے شمال میں آر ایس ایف کے ٹھکانوں کو "توپ خانے اور راکٹ فائر" سے نشانہ بنایا تھا اور شہری اتوار کوعلی الصباح توپ خانے اور راکٹوں کی گھن گھرج میں بیدار ہوئے تھے۔

مسلح تنازعات محل وقوع اور ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ کے اندازے کے مطابق، 15 اپریل کو سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے، قریباً 5،000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوڈانی مسلح افواج کا فضا پر کنٹرول ہے اور اس کے لڑاکا طیارے باقاعدگی سے مخالف فورسز پر فضائی حملے کرتے رہتے ہیں جبکہ آر ایس ایف کے جنگجو دارالحکومت کی سڑکوں پر غالب طاقت ہیں۔

دریں اثناء مغربی ممالک نے مغربی دارفور کے علاقے میں نیم فوجی دستوں اور اتحادی ملیشیاؤں پر نسلی بنیادوں پر ہلاکتوں کا الزام عاید کیا ہے اور ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے مبیّنہ جنگی جرائم کی نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

فوج پرجنگی جرائم میں ملوّث ہونے کا الزام بھی عاید کیا گیا ہے، جس میں 8 جولائی کا فضائی حملہ بھی شامل ہے۔اس میں قریباً دو درجن شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان کی چار کروڑ اسّی لاکھ آبادی میں سے نصف سے زیادہ کو اب انسانی امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے اور 60 لاکھ "قحط سے ایک قدم دور" ہیں۔عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ عدم تحفظ، لوٹ مار اور افسر شاہی کی رکاوٹوں کے باوجود وہ لاکھوں ضرورت مندوں کو امداد مہیّا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں قریباً 38 لاکھ افراد اندرون ملک بے گھر ہوئے ہیں جبکہ مزید دس لاکھ افراد سرحدیں عبور کرکے ہمسایہ ممالک کی جانب نقل مکانی کرچکے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق بے گھر ہونے والوں میں خرطوم سے تعلق رکھنے والے قریباً 28 لاکھ افراد شامل ہیں۔ یہ تعداد دارالحکومت کی جنگ سے پہلے کی قریباً پچاس لاکھ آبادی کے نصف سے زیادہ ہے۔

خرطوم میں مزاحمتی کمیٹیاں متاثرین کا امداد کا واحد ذریعہ رہی ہیں اور اسی کا کرکنان بمباری سے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکالتے ہیں۔سڑکوں پر گولیوں کا سامنا کرتے ہوئے ادویہ کی مہیا کرتے ہیں اور متحارب فریقوں کے مظالم کو دستاویزی شکل دیتے ہیں۔قریباً پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود سوڈان میں تشدد میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں