طالبان کے وزیر خارجہ کی تہران پر تنقید کے بعد ایران کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ان بیانات کے بعد جن میں انہوں نے تہران کی جانب سے افغانستان میں ایک جامع حکومت کے قیام کے مطالبے پر تنقید کی تھی ایران کے ایک ممتاز سفارت کار نے ان بیانات پر احتجاج کیا ہے۔

ایرانی معاون وزیر خارجہ رسول موسوی نے جمعہ کو سابق ٹویٹر اور حالیہ ایکس پلیٹ فارم پر طالبان حکومتی عہدیدار کے بیانات کی ویڈیو دوبارہ شائع کی۔

امیر خان متقی کے جواب میں موسوی نے کہا کہ مسئلہ کو دو طرفہ اور ذاتی بنا کر بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نہیں ٹالا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن، استحکام، سلامتی اور ترقی کا انحصار افغانستان میں ایک جامع حکومت کے استحکام پر ہے۔

موسوی کے مطابق سلامتی کونسل کی طرف سے جاری دو قراردادوں 2513 اور 2593 میں افغانستان میں جامع حکومت کی تجویز دی گئی تھی۔ اسے افغانستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، ایران، چین اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔

یاد رہے امیر خان متقی نے افغان علمائے کرام اور معززین کے ایک گروپ کے سامنے ایک تقریر میں ایرانی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ آپ وہ ہیں جو ہمیں نصیحت کرتے ہیں اور ہمیشہ ایک جامع حکومت کی یاد دلاتے ہیں۔ کیا آپ کے ملک میں ایک جامع حکومت ہے؟ کیا آپ اپنے شہریوں کو ان کے حقوق دیتے ہیں؟

اس سے قبل امیر خان متقی کو ایک ایرانی پارلیمانی وفد ملا تھا جس کی سربراہی سخت گیر رکن پارلیمنٹ جواد کریمی کر رہے تھے۔ متقی نے ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ہماری جیلوں میں اتنے قیدی نہیں ہیں جتنے آپ اپنی جیلوں میں پھانسی دیتے ہیں؟۔ آپ کے ملک میں ہزاروں غائب ہیں اور کوئی یہ پوچھنے کی جرات نہیں کرتا کہ وہ کہاں ہیں؟۔

واضح رہے دریائے ہلمند کے پانیوں میں حصہ بڑھانے کے ایرانی مطالبات کے پس منظر میں طالبان اور تہران کے درمیان تعلقات گزشتہ مہینوں سے کشیدہ چل رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں