میوزک بجانے کی پاداش میں افغانستان میں چھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا

طالبان کی زیر قیادت حکومت موسیقی کے فروغ کو "بدعنوانی" کی ایک شکل قرار دیتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغان طالبان کی اخلاقی پولیس نےموسیقی بجانے کے الزام میں چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ مقامی نشریاتی ادارے ’’طلوع نیوز‘‘ کی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ شمالی صوبے بلخ میں پیش آیا جہاں ایک گھریلو نوعیت کی تقریب جاری تھی۔

طالبان کے ایک مقامی اہلکار کے مطابق ان افراد کو افغان شہر مزار شریف سے گرفتار کیا گیا ہے جہاں ایک گھریلو تقریب میں موسیقی بجائی جا رہی تھی۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا ہے۔ طالبان حکومت موسیقی کے فروغ کو "بدعنوانی" کی ایک شکل قرار دیتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موسیقی "نوجوانوں کی گمراہی اور معاشرے کی تباہی" کا سبب بنتی ہے۔

اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے قومی ٹیلی وژن پر بھی موسیقی نشر کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ حال ہی میں شادی ہال کے مالکان کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ موسیقی کا اہتمام کرنے سے گریز کریں۔ شادیوں اور اسی طرح کی دیگر تقریبات میں سخت گیر احکامات سے متصادم سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ کئی افغان فنکار اور موسیقار مغربی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل افغانستان کے صوبہ ہرات سے افغان طالبان کی جانب سے موسیقی کے آلات جلانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ یاد رہے کہ افغان طالبان نے اقتدار سنبھالتے ہی خواتین کے تعلیم حاصل کرنے سمیت موسیقی اور گلوکاروں پر سخت ترین پابندی عائد کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں