ہفتہ قبل اسرائیلیوں نے طرابلس کا دورہ کیا : لیبیا کی یہودی یونین کے سربراہ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کی وزیر خارجہ منقوش کی اپنے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن کے ساتھ ملاقات پر ملک میں غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ منقوش کی برطرفی کے باوجود لوگ اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہیں حالات کے دوران لیبیا کی یہودی یونین کے سربراہ نے بھی بڑا سرپرائز دے دیا۔

رافیل لوزون نے گزشتہ جمعہ کی شام الحدث کے ساتھ ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد لیبیا اور اسرائیلی حکام اور کارکنوں کے درمیان کئی خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017 سے اسرائیلی اور لیبیا کے حکام کے درمیان ایک سے زیادہ خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

رافیل لوزون نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی یہودی ہفتہ قبل سرمایہ کاری اور اقتصادی معاملات پر بات چیت کے لیے لیبیا گئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں حال ہی میں لیبیا اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

جہاں تک منقوش اور کوہن کے درمیان روم میں ملاقات کے معاملے کا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ کے علم میں لائے بغیر ایسا ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا وہ اس ملاقات کی تیاریوں سے آگاہ ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اس کا اہتمام نہیں کیا تھا۔

واضح رہے الدبیبہ نے پہلے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی طرح تعلقات کو معمول پر لانے کی کسی بھی صورت کو مسترد کردیا تھا اور منقوش کے رویے کو حکومت سے باہر کیے گئے ایک آزاد فیصلے سے منسوب کیا تھا۔ تاہم لیبی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم الدبیبہ وزیر خارجہ اور چیف اسرائیلی سفارت کار کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پہلے ہی آگاہ تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں