متحدہ عرب امارات میں لاٹری، تجارتی کھیل کے نظم کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات نے لاٹری اور تجارتی جوے (کمرشل گیمنگ) کے نظم کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرایا ہے اور جنرل کمرشل گیمنگ ریگولیٹری اتھارٹی (جی سی جی آر اے) قائم کی ہے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق قومی اور بین الاقوامی گیمنگ ریگولیشن میں 30 سال سے زیادہ کے تجربے کے حامل کیون ملالی کو جی سی جی آر اے کا چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) نامزد کیا گیا ہے۔

ابوظبی تمام وفاقی حکام کی طرح جی سی جی آر اے کے آپریشنز کی نگرانی کرے گا۔ تاہم ، سات امارات میں سے ہر ایک کے حکمرانوں کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا کہ آیا جوے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

متحدہ عرب امارات میں جوا ہمیشہ سے حدود سے باہر رہا ہے ، لیکن رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ملک اپنی سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے نئے طریقوں کی تلاش میں ہے جبکہ ہوٹل اور کسینو آپریٹر وین ریزارٹس نے گذشتہ سال کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ راس الخیمہ میں اپنے نئے ریزارٹ میں ایک کسینو کھولے گا۔

مشہور سیاحتی مرکز دبئی عالمی شہرت یافتہ سیزر پیلس کا گھر ہے ، لیکن اس ہوٹل میں ابھی تک کسینو نہیں ہے۔

بیان کے مطابق جی سی جی آر اے سماجی طور پر ذمہ دار اور اچھی طرح سے منظم جوے بازی کا ماحول تخلیق کرے گی، اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام شرکاء سخت ہدایات پر عمل کریں اور اعلیٰ ترین معیارات کی تعمیل کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’نئی اتھارٹی ریگولیٹری سرگرمیوں کو مربوط کرے گی، قومی سطح پر لائسنسنگ کا انتظام کرے گی اور ذمے داری کے ساتھ کمرشل گیمنگ کی اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کرنے میں سہولت مہیا کرے گی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں