دیر الزور کے لوگ ایک ہفتے سے خوراک سے محروم، جھڑپوں کی وجہ سے حالات کشیدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مشرقی شام میں دیر الزور گورنری میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی وجہ سے علاقے میں نہ صرف دہشت کی فضا ہے بلکہ معاملات اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

شام کی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) اور دیر الزور ملٹری کونسل کے کمانڈر کے مسلح وفاداروں کے درمیان جھڑپوں میں گذشتہ ہفتے سے درجنوں ہلاکتوں کی وجہ سے بیکریوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

بیکریاں کیوں بند ہوئیں؟

مقامی باشندوں کے بیانات کے مطابق یہ تندور آٹے اور ایندھن کے ضائع ہونے کی وجہ سے بند ہوئے۔

وہ شہر کے روایتی تندوروں میں سے ایک میں روٹی بنانے کے کام پر بھی گئے۔

پٹرول کی عدم دستیابی کے باعث شہر میں ٹریفک تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے کیونکہ زیادہ تر خاندانوں کے پاس نہ آٹا ہے نہ گندم اور نہ ہی وہ نجی بیکریوں سے روٹی خریدنے کے قابل ہیں۔ 6 روٹیوں کا ایک پیکٹ 4,500 شامی لیرہ میں دستیاب ہے۔

مقامی باشندوں نے بتایا کہ دیر الزور کے شمالی اور مشرقی دیہی علاقوں میں تقریباً 170 رعایتی بیکریاں ہیں، جنہیں آٹے کی قلت کی وجہ سے بیکریوں تک ضروری مقدار میں نہ پہنچنے کی وجہ سے لڑائیاں شروع ہونے کے بعد سے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

واشنگٹن نے "کرد" ایس ڈی ایف اور دیر الزور کے "عرب" قبائل کے درمیان لڑائی کو روکنے کے لیے مداخلت کی ہے

قابل ذکر ہے کہ دیر الزور کے مشرقی دیہی علاقوں میں کچھ دیہاتوں میں عرب قبائل اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان دیر الزور ملٹری کونسل کے سربراہ احمد الخبیل کی برطرفی کے بعد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

اگرچہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے الخبیل کی گرفتاری کے حالات پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا، لیکن اس نے داعش کے خلاف اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں "سکیورٹی بڑھانے کے لیے آپریشن" شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ داعش کے عناصرمنشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ سمیت کئی دوسرے دھندوں میں ملوث ہیں۔

درجنوں ہلاکتوں کے بعد سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے اس بات سے انکار کیا کہ دیر الزور میں جاری جھڑپیں ان کے اور عرب قبائل کے درمیان جنگ تھی۔

ان امریکی حمایت یافتہ افواج کی جنرل کمان نے بھی گزشتہ ہفتے کے روز ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ اس معاملے کو قبائل کے ساتھ لڑائی کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کا مقصد صرف "بغاوت" پیدا کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں