محمد الفائد کی گم نامی میں موت، کیا انہوں نے یاداشتوں میں کوئی راز کی بات لکھی تھی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصری تاجر محمد الفائد گذشتہ جمعہ کو انتقال کر گئے۔ وہ اپنے پیچھے جذبے، کامیابیوں، اداسیوں اور یہاں تک کہ تنازعات سے بھری داستان چھوڑ گئے۔

تاہم ان کی دنیا سے رُخصتی بہت پر سکون تھی، نہ کوئی بڑا جنازہ نہ کسی وی آئی شخصیت کی ہٹو بچو کی صداؤں میں آمد، نہ ہزاروں کا مجمع۔ بس گنے چنے چند لوگوں نے ان کی آخری رسومات ادا کیں۔ حتی کہ ان کے جنازے سے لگا کہ الفائد کی موت کی خبر جھوٹی ہے۔ اتنی گم نامی میں ان کی موت یہ حیرت کی بات تھی۔

محمد الفائد کے جنازے میں محدود شرکت کیوں تھی؟

لندن میں مصری فیملی ہاؤس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر اور یورپ میں مصری اداروں کی فیڈریشن کے ڈائریکٹر مصطفی رجب نے الفائد کو لامحدود کامیابیوں کا حامل قرار دیا۔

عربی روزنامہ ’الشرق الاوسط‘ کے مطابق جنازہ درحقیقت محدود تھا۔ لندن کی "رینز پارک" مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ وہاں کوئی سرکاری عہدیدار موجود نہیں تھا۔ ایسا الفائد کی شخصیت کے لیے غیر متوقع تھا، جس نے اس کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اہل خانہ تدفین کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے تیزی سے متحرک تھے۔اس تیزی کی وجہ یہ بھی تھی سرکاری حکام ہفتے اور اتوار کو کام بند کر دیتے مرحوم کی تدفین میں تاخیر ہوجاتی اور انہیں اہل خانہ انہیں پیر کو دفن کرنے پر مجبور ہو جاتے۔

میراث میں اسکندریہ میں ایک بڑی پراپرٹی اور تحائف

مرحوم تحائف کے بارے میں رجب نے وضاحت کی کہ ارب پتی محمد الفائد نے کامیابیوں اور چیلنجوں سے بھر پور ایک طویل سفر طے کیا، جس کا آغاز اس نے اپنی زندگی کے اوائل میں کیا، جب اس نے اپنے آبائی شہر اسکندریہ کی بندرگاہ میں ایک پورٹر کے طور پر کام کیا۔

پھر سعودی عرب کا سفر کیا۔ جہاں اس نے سلائی مشینوں کی فروخت کا کام کیا اور پھر وہ محمد حسن البقلیہ جو سلطان آف برونائی تھے کے مشیر بن گئے۔ ساٹھ کی دہائی کے وسط میں کئی شعبوں میں بڑی کامیابیاں اور بڑی ڈیلوں کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ برطانیہ میں اسی کی دہائی کے وسط میں مشہور "ہیروڈز" ڈپارٹمنٹ اسٹور چین میں حصص خرید کیے۔

مرحوم تاجر نے تقریباً دو ارب ڈالر مالیت کی ایک بہت بڑی معاشی سلطنت قائم کرنے کے بعد اپنی موت تک اپنی زندگی یورپ میں گذاری۔ ان کا بند محل اب بھی اسکندریہ میں ان کے نام والی سڑک پر کھڑا ہے۔

رجب نے کہا کہ وہ کمیونٹی کے کام میں دلچسپی رکھتے تھے اور مصری عوام کی بہتری کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے۔

یاداشتوں کا کیا ہوگا؟

رجب نے زور دے کر کہا کہ الفائد ایک اچھے آدمی تھے لیکن وہ جو کام کر رہے تھےاس کا زیادہ تر کام سرکاری حکام، اداروں اور ہسپتالوں کے ساتھ تعاون کرنے پر مرکوز تھا، خاص طور پر ان کے آبائی شہر اسکندریہ میں تھا۔

مصری ارب پتی محمد الفائد سے لندن کی محبت نفرت میں کیسے بدل گئی؟

تاہم اس کے بیٹے ڈوڈی کی موت کے بعد یہ سرگرمی ماند پڑ گئی، اس لیے وہ اپنے چھوٹے سے خاندان اور اپنے خاندان کے ساتھ سوئٹزرلینڈ اور فرانس کے درمیان رہتے تھے۔ انھوں نے اس دردناک حادثے کی تفصیلات سے پردہ اٹھانے کی بہت کوشش کی، لیکن انھیں کچھ حاصل نہ ہوا۔

رجب نے بتایا کہ اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ مرحوم محمد الفائد نے واقعی اپنی یادداشتیں لکھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کوئی نہیں جانتا ہے کہ اگر وہ مل جاتی ہیں تو اس کے اہل خانہ ان کے بارے میں کیا کریں گے۔ یا اس کی بہت سی خفیہ فائلوں کے بارے میں وہ کیا انکشاف کریں گے یا انہیں خفیہ رکھیں گے۔

غیر معمولی نقصان

قابل ذکر ہے کہ ان کے بیٹے عماد الفائد کی 26 ویں برسی کے موقع پر ایک کار حادثے میں موت ہو گئی تھی جس میں وہ آنجہانی شہزادی ڈیانا، شہزادی آف ویلز کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ مصری ارب پتی اور کاروباری شخصیت محمد الفائد کا گذشتہ جمعہ کو طویل کیریئر کے بعد 94 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔

الفائد 27 جنوری 1929 کو راس التین کے علاقے اسکندریہ کے شہر میں ایک سادہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد عربی کے استاد تھے۔

ڈرائیور اور گارڈ سامنے والی سیٹ پر ہیں، ان کے پیچھے ڈیانا اور الفائد ہیں۔
ڈرائیور اور گارڈ سامنے والی سیٹ پر ہیں، ان کے پیچھے ڈیانا اور الفائد ہیں۔

محمد الفائد جب جوان ہوئے تو انہوں نے کئی ملازمتوں میں کام کیا۔اسکندریہ کی بندرگاہ میں سامان کے پورٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ پچھلی صدی کے وسط ساٹھ کی دہائی کے دوران وہ برطانیہ چلے گئے جہاں ان کی قسمت بدل گئی۔

وہ امیر ترین عربوں کی فہرست میں 12 ویں نمبر پر ہیں۔ان کی مجموعی دولت2 ارب ڈالر ہے، جب کہ فوربس کی درجہ بندی کے مطابق وہ دنیا میں 1516 ویں امیر ترین شخص تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں