یورپی یونین کے سویڈش سفارت کار کی ایران میں 500 دنوں سے زیادہ قید ہونے کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ یورپی یونین کے لیے کام کرنے والے سویڈش سفارت کار جوہان فلوڈرس 500 سے زیادہ دنوں سے ایران میں قید ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے ہسپانوی شہر کاڈیز میں ایک اجلاس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ برسلز 33 سالہ شخص کی رہائی کے لیے ایران پر’’مسلسل‘‘ دباؤ ڈال رہا ہے۔

پیر کے روز سویڈن نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کی جزوی طور پر تصدیق کی تھی کہ سویڈش شہری اپریل 2022 سے ایران میں قید ہے اوراس کی عمر تیس سال سے زیادہ ہے لیکن بوریل نے قیدی کے نام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ یورپی یونین کی سفارتی کور کے لیے کام کرتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’اگرآپ مجھے اجازت دیں تو میں ایک مخصوص کیس کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، مسٹر فلوڈرس کے معاملے کے بارے میں۔وہ سویڈش شہری ہے جو یورپی یونین کے لیے کام کرتا تھا اور گذشتہ 500 دنوں سے ایران میں غیر قانونی طور پر حراست میں ہے‘‘۔

انھوں نے کہاکہ ’’میں ذاتی طور پراس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ، تمام سطحوں پر میری تمام ٹیم - سویڈش حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔یورپی ادارے ، جن پر قونصلر تحفظ کی پہلی ذمے داری عاید ہوتی ہے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ،ہم ایرانی حکام پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ انھیں رہا کریں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم فلوڈرس کی آزادی کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ قریبی رابطے میں، ان کی مرضی کا احترام کرتے ہوئے اور یقینی طور پر سویڈش حکومت کے ساتھ ایسا کرتے رہیں گے۔یہ ہمارے ایجنڈے میں ہے، ہمارے دل میں ہے اور ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک فلوڈرس کو آزاد نہیں کردیا جاتا‘‘۔

ایران نے گذشتہ سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ اس نے جاسوسی کے شبے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔اس سے دو ہفتے کے بعد ایک ایرانی شہری کو سویڈن میں 1988 میں ایرانی حکومت کی جانب سے ہزاروں مخالفین کو بڑے پیمانے پر پھانسی دینے میں کردار ادا کرنے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسٹاک ہوم کی ایک عدالت نے ایران کی جیل کے سابق سربراہ حامد نوری کو 'بین الاقوامی قوانین کے خلاف سنگین جرائم' اور 'قتل' کا مجرم قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ متعدد ممالک ایران پر’’یرغمال سفارت کاری‘‘پر عمل کرنے کا الزام عاید کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایران نے بیرون ملک حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں کی رہائی جیسی مراعات حاصل کرنے کے لیے مغربی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔

مئی میں بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ انسانی حقوق کے کارکن اولیور ونڈے کاسیلے کو ایرانی سفارت کار اسداللہ اسدی کے تبادلے میں رہا کر دیا گیا تھا۔انھیں جاسوسی کے الزام میں ایران میں 15 ماہ تک حراست میں رکھا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں