بھارتی صدر نے’جی 20 ‘اجلاس سے قبل ملک کے نام کے حوالے سے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا

بھارتی صدر کی طرف سے کسی آفیشیل دعوت نامے پر پہلی مرتبہ "پریسیڈنٹ آف بھارت" کے استعمال سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ مودی حکومت ہندوتوا کے ایجنڈے پر گامزن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں ہونے والے ’G20 ‘ اجلاس میں اہم ملکوں کی عدم شرکت کا شور ابھی تھما نہیں تھا کہ دوسری جانب بھارتی صدر دروپدی مرمو نے ملک کے نام کے حوالے سے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے انہیں اپوزیشن کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

نو ستمبر کو بھارت میں ہونے والے G20 سربراہی اجلاس کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ صدارتی دفتر نے شرکا کو ایک سرکاری عشائیہ میں شرکت کے لیے سرکاری دعوت نامے بھیجے ہیں۔

عشائیہ میں دعوت نامے تو کوئی نئی بات نہیں مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں بھارتی صدر دروپدی مرمو نے جی 20 سربراہی کانفرنس کے دوران سربراہان مملکت اور دیگر مہمانوں کو راشٹر پتی بھون میں نو ستمبر کو دیے جانے والے عشائیے کے دعوت نامے میں اپنے عہدے کے ساتھ 'ری پبلک آف انڈیا' کی جگہ پریسیڈنٹ آف دی 'ری پبلک آف بھارت' کا استعمال کیا ہے۔

ان کا دعوت نامہ سامنے آتے ہی تنقید کا ایک طوفان بپا ہو گیا ہے۔

دعوت نامے کی کاپیوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسے معمول کے "صدر ہند" کے بجائے "بھارتی صدر" کے طور پر خطاب کیا گیا تھا، جس نے کچھ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا تھا۔

خبر سچ ہے

کئی سیاست دانوں اور ممبران پارلیمنٹ نے عشائیے کے ان سرکاری دعوت ناموں میں "بھارتی صدر" کی اصطلاح استعمال کرنے کی مخالفت کی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تبصرے میں کانگریس کے سکریٹری جنرل جے رام رمیش نے تصدیق کی کہ یہ خبر درست ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر "تاریخ کو مسخ کرنے اور ہندوستان کو تقسیم کرنے" کا بھی الزام لگایا۔

عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان راگھو چڈھا نے اس رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا کہ "بھارتیہ جنتا پارٹی (حکمران جماعت) کیسے ملک کو تقسیم کر سکتی ہے؟"

انہوں نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ "جی 20 سربراہی اجلاس کے سرکاری دعوت ناموں میں ملک کے صدر کا نام ہندوستان کے بجائے بھارت میں تبدیل کرنے کے بی جے پی کے حالیہ اقدام نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ "قومی شناخت بی جے پی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے جسے اس کی خواہش کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے۔"

جبکہ دیگر سیاست دانوں نے "بھارت" اور "انڈیا" دونوں اصطلاحات کے استعمال پر زور دیا۔

متنازع دعوت نامے سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے اوران پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں جب کہ بعض نے صدر جمہوریہ کے اقدام کی حمایت کی ہے۔

برسوں پہلے حکام نے ملک کا نام بدل کر "بھارت" کرنے کی کوشش کی کیونکہ یہ نام برطانوی نو آبادیاتی دور کا ہے لیکن سپریم کورٹ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں