اوپیک پلس

تیل سپلائی میں کٹوتی سے توانائی مارکیٹ میں استحکام آیا: پوتین،سعودی ولی عہد میں اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے بدھ کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی سپلائی میں کٹوتی سے متعلق حالیہ سمجھوتوں سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنایا گیا ہے۔

تیل کی پیداوار میں عالمی لیڈر کی حیثیت رکھنے والے دونوں ممالک سعودی عرب اور روس نے اپنی پیداوار میں رضاکارانہ کٹوتی کو اس سال کے آخر تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے چوتھی سہ ماہی میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی سکڑنے کی توقع ہے۔

روس نے تیل کی اپنی یومیہ برآمدات میں تین لاکھ بیرل کی کمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور سعودی عرب آیندہ سال تک تیل کی یومیہ پیداوار میں دس لاکھ بیرل کی کمی جاری رکھے گا۔

کریملن نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں لیڈروں نے اوپیک پلس کے فریم ورک کے تحت ان کے ممالک کے درمیان تعاون پر انتہائی اطمینان کااظہار کیا ہے۔اس گروپ میں روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک اور سعودی عرب کی قیادت میں اوپیک کے رکن ممالک شامل ہیں۔

کریملن نے دونوں لیڈروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کہا کہ ’’اس میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق طے شدہ حالیہ سمجھوتوں اور اس کے ساتھ اس کی سپلائی کو محدود کرنے کے لیے رضاکارنہ وعدوں سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں