موبائل فون کی جنگ جاری ہے، چین نے اپنے ملازمین کو آئی فون لینے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ میں چینی مصنوعات بشمول Huawei فونز پر پابندیوں کے بعد چین نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سائبر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنے ملازمین کو دفتری اوقات میں آئی فون استعمال کرنے سے روک دیا۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ملازمین کو چیٹ گروپس یا میٹنگز میں اپنے مالکان سے یہ ہدایات موصول ہوئی ہیں۔

یہ واضح نہیں کہ احکامات کتنے وسیع پیمانے پر دیے گئے ہیں لیکن کچھ مرکزی حکومت کی ریگولیٹری ایجنسیوں کے ملازمین کو بھی اسی طرح کے خطوط بھیجے گئے تھے۔

سخت قواعد

اس کے علاوہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے برسوں پہلے بعض ایجنسیوں کے سرکاری اہلکاروں کو کام پر آئی فون استعمال کرنے سے روکا تھا لیکن اب اس معاملے کو وسعت دی گئی ہے۔

اخبار کے مطابق تازہ ترین حکم نامے میں بیجنگ کی جانب سے اپنے قوانین کو سختی سے نافذ کرنے کو یقینی بنانے کی وسیع کوششوں کا بھی اشارہ دیا گیا ہے۔

یہ ہدایت بیجنگ کی غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے اور سائبر سکیورٹی کو بڑھانے کی مہم کا تازہ ترین قدم ہے۔

جبکہ بیجنگ کے اس اقدام کا چین میں غیر ملکی برانڈز پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس میں ایپل بھی شامل ہے جو ملک کی جدید سمارٹ فون مارکیٹ پر حاوی ہے اور چین میں ایپل کی مصنوعات کی بڑی منڈی ہے۔

چین کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں اسی طرح کی پابندی کی عکاسی کرتی ہیں جو امریکہ کی طرف سے ہواوے اور چینی ملکیت والی TikTok ایپلی کیشن کے استعمال پر لگائی ہے۔ دونوں سپر پاورز ڈیٹا کے لیک ہونے کے بارے میں فکر مند ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے قومی سلامتی کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ امریکہ کے ساتھ مسابقت میں شدت آتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ڈیٹا اور ڈیجیٹل سرگرمیوں پر ریاستی کنٹرول سخت ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں