سعودی معیشت

سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح 4.8 فی صد تک گرگئی، نوجوانوں میں نصف کم:آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں بے روزگاری کی مجموعی شرح 2022 کے اختتام تک کم ہو کر 4.8 فی صد رہ گئی۔ کووڈ-19 کے دوران میں مملکت میں بے روزگاری کی شرح 9 فی صد تھی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔نیز سعودی عرب 2022میں گروپ 20 میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بھی تھا۔

بے روزگاری کی شرح

مملکت میں بے روزگاری کی مجموعی شرح 2022 کے اختتام تک کم ہو کر 4.8 فی صد رہ گئی ہے۔ یہ نجی شعبے میں سعودی کارکنوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کارکنوں،خاص طور پر تعمیراتی اور زرعی شعبوں میں روزگار میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے اور روزگار کی شرح کووِڈ سے پہلے کی سطح پر واپس آ رہی ہے۔

سعودی عرب دنیا بھر کی منڈیوں میں گندم، کھجوریں، ڈیری مصنوعات، انڈے، مچھلی، پولٹری، پھل، سبزیاں اور پھول برآمد کرتا ہے۔ کھجور، جو کبھی سعودی غذا کا ایک اہم حصہ تھی، اب بنیادی طور پر عالمی انسانی امداد کے لیے اگائی جاتی ہے۔

2022ء میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بھی نصف ہو کر 16.8 فی صد رہ گئی جبکہ افرادی قوت میں خواتین کی شرکت 36 فی صد تک پہنچ گئی جو سعودی ویژن 2030 کے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت مقرر کردہ 30 فی صد ہدف سے زیادہ ہے۔

معاشی ترقی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مملکت کی مجموعی اقتصادی نمو 8.7 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔جزوی طور پر تیل کی مضبوط پیداوار اور 4.8 فی صد غیر تیل جی ڈی پی کی وجہ سے "مضبوط نجی کھپت اور غیر تیل نجی سرمایہ کاری کی وجہ سے" شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے۔

غیر تیل ترقی پذیر اہم معاشی شعبوں میں تھوک، خوردہ تجارت، تعمیرات اور نقل و حمل شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ 2023 میں غیر تیل معیشت کی ترقی کی رفتار میں اضافہ جاری رہے گا۔

افراطِ زر کی شرح بھی کم رہی اور توقع ہے کہ اس میں مزید کمی آئے گی۔ 2023 کے اوائل میں 3.4 فی صد تک اضافے کے باوجود، مئی 2023 میں افراط زر کی شرح 2.8 فی صد پر واپس آ گئی تھی کیونکہ نقل و حمل کے شعبے اور خوراک کی قیمتوں کی شراکت سے کرایہ میں اضافے کو پورا کیا گیا۔

ڈھانچاجاتی اصلاحات میں پیش رفت

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے سعودی عرب کے ڈھانچاجاتی اصلاحات کے ایجنڈے میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کیا ہے،بالخصوص خواتین لیبر فورس کی شرکت میں بہتری اور ریگولیٹری اور کاروباری ماحول میں بہتری آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انھوں نے نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے اور’’مثبت پیش رفت‘‘ کی حوصلہ افزائی کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کا بینکاری کا شعبہ "مضبوط" ہے۔

اس میں سعودی عرب کے سبز اقدام (گرین انیشی ایٹو ،ایس جی آئی) پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس کا نفاذ خالص اخراج میں کمی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے اہم ہوگا۔

سعودی حکومت کے ویژن 2030 کی ویب سائٹ کے مطابق ایس جی آئی "سعودی عرب میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط ویژن ہے۔اس میں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے، معیار زندگی کو بہتر بنانے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول کے تحفظ پر توجہ مرکوزکی جارہی ہے۔

آئی ایم ایف کی ایسی رپورٹ ہر سال مرتب کی جاتی ہے۔اس کے تحت عالمی ادارے کے عملہ کی ایک ٹیم متعلقہ ملک کا دورہ کرتی ہے، معاشی اور مالیاتی معلومات جمع کرتی ہے اور حکام کے ساتھ ملک کی اقتصادی ترقی اور پالیسیوں پر تبادلہ خیال کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں