فرانسیسی عدلیہ نے سکولوں میں حجاب پر پابندی قانونی قرار دیدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سکولوں میں حجاب پر پابندی قانونی ہے۔ حکومتی حکام کے خلاف شکایات پر غور کرنے والی فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت کونسل آف سٹیٹ نے کہا کہ اس نے حکومت کی طرف سے گزشتہ ماہ عائد پابندی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے کے لیے ایک ایسوسی ایشن کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ حجاب پر پابندی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک نہیں ہے۔

اگست کے آخر میں فرانسیسی حکومت نے ریاستی سیکولرازم کے اصول کی بنیاد پر سکولوں میں عبایا پہننے پر پابندی کا اعلان کیا جس سے تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ فرانس میں 2004 میں جاری ایک قانون کے تحت سکولوں میں مذہبی علامتوں کو نمایاں کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر سہام زینی نے کہا کہ عبایا پر پابندی کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو "جنسی امتیاز" کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ اس کا تعلق صرف لڑکیوں سے ہے۔ اس فیصلے سے عربوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف فرانس میں وزارت تعلیم نے کہا کہ عبایا فوری طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسے پہننے والا اسلامی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔

یاد رہے پیر چار ستمبر کو فرانسیسی سکولوں نے درجنوں لڑکیوں کو ان کے گھروں کو واپس کر دیا کیونکہ انہوں نے تعلیمی سال کے پہلے دن عبایا کی پابندی پر عمل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ وزیر تعلیم گیبریل اٹل نے بتایا کہ تقریباً 300 لڑکیوں نے سکولوں میں عبایا پر پابندی کے فیصلے کی مخالفت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے زیادہ تر نے اپنا لباس تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کردی لیکن 67 نے انکار کر دیا اور انہیں ان کے گھروں کو واپس بھیج دیا گیا۔ سرکاری اندازوں کے مطابق فرانس کی 67 ملین آبادی میں لگ بھگ 10 فیصد مسلمان شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں