بھارتی صحافیوں کو بائیڈن کا استقبال کرتے مودی کی کوریج سے روک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نئی دہلی میں جی 20 سربراہی اجلاس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن کا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پرتپاک استقبال کیا تاہم صحافیوں کو اہم اجلاس کی کوریج کرنے سے روک دیا گیا۔

جی 20 جیسے بڑے سربراہی اجلاسوں کے موقع پر اس طرح کے دو طرفہ ملاقاتوں تک میڈیا کی رسائی کو ہمیشہ سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے لیکن اسے شاذ و نادر ہی مکمل طور پر روکا جاتا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارتی حکام نے جون میں واشنگٹن کا سرکاری دورہ کرتے ہوئے ایک پریس بریفنگ میں مودی کے امریکی نامہ نگاروں سے ایک سوال لینے پر راضی ہونے سے پہلے طویل مذاکرات کئے تھے۔ بھارتی رہنما شاذ و نادر ہی کبھی غیر ملکی میڈیا کے سوالات لیتے ہیں۔

بائیڈن کے ساتھ صحافیوں کا وائٹ ہاؤس "پول" عام طور پر روبرو ملاقاتوں میں شرکت کرتا ہے۔ جمعہ کو بھی امریکی صحافیوں نے تصاویر لیں اور کچھ سوالات پوچھے ۔

امریکی صدر کا خیال ہے کہ آزاد صحافت ہماری جمہوریت کا ستون ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین پیئر نے بائیڈن کو بھارت لے جانے والے طیارے میں سوار صحافیوں کو بتایا کہ وہ میڈیا تک رسائی کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

بھارت میں لینڈنگ کے بعد بائیڈن بھارتی رہنما کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن ان کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کو باہر ہی رہنے کو کہا گیا۔

قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ایئر فورس ون کے بورڈ پر کہا تھا کہ ہم امریکی حکومت میں امریکی صحافیوں کو صدر کے ہر کام تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔

یاد رہے جون میں بائیڈن کے ساتھ واشنگٹن کی پریس کانفرنس میں مودی سے ایک سوال وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹر سبرینا صدیقی نے پوچھا تھا۔ انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں پر جبر کے الزامات اور انسانی حقوق کے حوالے سے ملک کے ریکارڈ کے بارے میں پوچھا۔

مودی نے جواب دیا کہ ’ہندوستان کی جمہوری اقدار میں بالکل کوئی امتیاز نہیں ہے۔ ذات پات، نسل، عمر یا کسی بھی قسم کے جغرافیائی محل وقوع کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں رکھا جاتا۔ اس سوال کے بعد خاتون صحافی کو بعد میں آن لائن ہراسیت کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں