بھارت جی 20

جی 20 اجلاس: افریقی یونین کی نئے رکن کے طور پر شمولیت

افریقی یونین نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر جی 20 کے نئے رکن کے طور پر اپنی نشست باضابطہ طور پر سنبھال لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقی یونین نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر ہفتے کو جی 20 کے نئے رکن کے طور پر اپنی نشست باضابطہ طور پر سنبھال لی۔

عالمی معیشتوں کی تنظیم جی 20 کا سربراہی اجلاس آج سے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں شروع ہوگیا ہے، جس میں شرکت کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، برطانوی وزیراعظم رشی سونک، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرش سمیت دیگر عالمی رہنما انڈیا پہنچے ہیں۔

افریقی یونین کی جی 20 میں شمولیت سے تنظیم کی توسیع، نریندر مودی کے لیے ایک قابل ذکر سفارتی فتح ہے، جنہوں نے اس سال سربراہی اجلاس کی میزبانی کے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی سیاستدان کے طور پر اپنی شناخت بنانے کی کوشش کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتے کو اجلاس کے آغاز پر اپنی افتتاحی تقریر سے قبل نریندر مودی نے افریقی یونین اور کوموروس کے صدر ازالی اسومانی کو گلے لگا کر خوش آمدید کہا۔

مودی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا: ’انڈیا نے افریقی یونین کو جی 20 کی مستقل رکنیت دینے کی تجویز پیش کی۔ مجھے یقین ہے کہ اس پر ہم سب کا اتفاق ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’سب کی منظوری کے ساتھ، میں افریقی یونین کے سربراہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جی 20 کے مستقل رکن کے طور پر اپنی نشست سنبھالیں۔‘

جس کے بعد ازالی اسومانی نے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی دعوت پر عالمی رہنماؤں کے درمیان اپنی نشست سنبھالی۔

حالیہ برسوں میں یوکرین کی جنگ پر گہری تقسیم کے باعث جی 20 اراکین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

نریندر مودی نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا: ’دنیا میں بھروسے کا ایک بہت بڑا بحران ہے۔

’جنگ نے اعتماد کے اس خسارے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اگر ہم کووڈ 19 کو شکست دے سکتے ہیں تو ہم باہمی اعتماد کے اس بحران کو بھی فتح کر سکتے ہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں