مراکش زلزلہ

مراکش میں تباہ کن زلزلہ؛ ہلاکتوں کی تعداد دوہزار سے بڑھ گئی،2،000 سے زیادہ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مراکش میں تباہ کن زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ گئی ہے۔مراکشی عوام اتوار کے روز تباہ کن زلزلے میں مرنے والوں کی یاد میں سوگ منارہے ہیں۔ جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم دیہات کے ملبے تلے دبے ہوئے افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شمالی افریقا میں واقع ملک میں ریکارڈ کیے گئے اب تک کے سب سے شدید زلزلے میں 2،012 افراد ہلاک اور 2،000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔

مراکش کی وزارت داخلہ کے مطابق زیادہ تر جانی اور مالی نقصان شہروں اور قصبوں کے باہر ہوا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے دشوار گذار پہاڑی علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جس کے پیش نظر اموات اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

تاریخی شہر مراکش میں زلزلے سے تباہ شدہ عمارتیں۔
تاریخی شہر مراکش میں زلزلے سے تباہ شدہ عمارتیں۔

مراکشی باشندوں نے ایسی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں جن میں عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر اور گردوغبار میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔زلزلے سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل قدیم شہر مراکش کے ارد گرد واقع مشہور سرخ دیواروں کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔سیاحوں اور دیگر لوگوں کی پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں لوگ چیخ پکار کر رہے ہیں اور شہر کے ریستورانوں کو خالی کر رہے ہیں۔

زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ایک قصبے کے سربراہ نے مراکشی نیوز سائٹ 2 ایم کو بتایا کہ قریبی قصبوں میں متعدد مکانات جزوی یا مکمل طور پر منہدم ہوگئے ہیں۔کچھ مقامات پر برقی رو منقطع ہوگئی ہے اور سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں۔

زلزلے سے مراکش کا صوبہ الحوز سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔اس صوبہ میں واقع قصبے طلعت یعقوب کے سربراہ عبدالرحیم عیت داؤد نے بتایا کہ حکام صوبہ میں سڑکوں کو صاف کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ ایمبولینسوں کے گذرنے کا رستہ بن سکے اور متاثرہ آبادیوں کو امداد مہیا کی جا سکے، لیکن پہاڑی علاقے میں واقع دیہات کے درمیان بڑا فاصلہ ہے جس کا مطلب ہے کہ نقصانات کا درست اندازہ لگانے میں وقت لگے گا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق زلزلے کے مرکز کے ارد گرد پہاڑی علاقے کی طرف جانے والی سڑکوں پر گاڑیاں جام ہو چکی ہیں یا چٹانوں کے گرنے سے بند ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔

امریکا کے ارضیاتی سروے (یو ایس جی ایس) کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت ابتدائی طور پر 6.8 ریکارڈ کی گئی تھی جب یہ مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی رات 11 بج کر 11 منٹ پر آیا۔ امریکی ایجنسی کے مطابق زلزلے کے 19 منٹ بعد 4.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

زلزلے کا مرکز مراکش شہر سے قریباً 70 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر إيغيل کے قریب تھا۔یو ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے 18 کلومیٹر نیچے تھا جبکہ مراکش کے زلزلے سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی سطح زمین سے 8 کلومیٹر نیچے تھی۔ دونوں صورتوں میں، اس طرح کے ہلکے زلزلے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

شمالی افریقا میں زلزلے نسبتاً کم آتے ہیں۔مراکش کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے جیوفزکس میں شعبہ زلزلہ پیما اور انتباہ کے سربراہ الحسین مہانی نے 2 ایم ٹی وی کو بتایا کہ یہ پہاڑی علاقے میں ریکارڈ کیا جانے والا اب تک کا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔

یادرہے کہ سنہ 1960 میں مراکش کے شہر أغادیر کے قریب 5.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں بارہ سے پندرہ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور ہلاکتوں کی یہ تعداد اس وقت شہر کی کل آبادی کا ایک تہائی تھی۔

أغادیر میں اس تباہ کن زلزلے کے بعد مراکش نے تعمیراتی قوانین میں تبدیلیاں کی تھیں ، لیکن بہت سی عمارتیں ، خاص طور پر دیہی علاقوں میں مکانات اس طرح کے جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعمیر نہیں کیے گئے ہیں۔

سنہ 2004 میں بحیرۂ روم کے کنارے واقع ساحلی شہر الحسیمہ کے قریب 6.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 600 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دریں اثناء پرتگیزی انسٹی ٹیوٹ برائے بحر اور ماحولیات اور الجزائر کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق جمعہ کی شب آنے والے زلزلے کے جھٹکے پرتگال اور الجزائر تک محسوس کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں