مراکش زلزلہ

مراکش میں مہلک زلزلے کے ہولناک لمحات کیمرے پر محفوظ

امریکی جیو فزیکل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق زلزلے کی شدت 6.8 تھی۔ اس کا مرکز سیاحتی شہر مراکش کے جنوب مغرب میں دارالحکومت رباط سے 320 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آج مراکش میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعض لمحات سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ ہوگئے جسے مراکش کے ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز نشر کیا۔

اس زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 632 ہو گئی ہے اور 329 زخمی ہیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے خون کے عطیات کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

ذرائع ابلاغ نے اس زلزلے کو ملکی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ قرار دیا۔

حکومت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ"صبح سات بجے تک، 632 اموات اور 329 زخمی ریکارڈ کیے گئے، جن میں 51 کی حالت تشویش ناک ہے۔"

زلزلے کا مرکز مراکش شہر کے جنوب مغرب میں صوبہ الحوز میں تھا۔ زلزلہ کئی شہروں میں محسوس کیا گیا۔

مراکش کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کے شعبہ کے سربراہ ناصر جابور نے کہا کہ "یہ ایک صدی میں پہلی بار ہے کہ مرکز نے مراکش میں اتنے شدید زلزلے کو ریکارڈ کیا ہے۔"

رباط میں واقع نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک اینڈ ٹیکنیکل ریسرچ نے بتایا کہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 ڈگری تک پہنچ گئی تھی اور اس کا مرکز الحوز صوبے میں تھا۔

مراکش میں آنے والے پرتشدد زلزلے کے مرکز کے قریب ترین بڑے شہر مراکش کے رہائشیوں نے بتایا کہ قدیم شہر میں کچھ تاریخی عمارتیں منہدم ہوئیں، ساتھ ہی قدیم شہر کی تاریخی حیثیت کی حامل دیوار کے کچھ حصے بھی گر گئے جو "یونیسکو" کی جانب سے عالمی ورثے میں شامل تھے۔

مقامی ٹیلی ویژن نے ایک قدیم مسجد کے مینار کے گرنے اور ٹوٹی ہوئی کاروں پر ملبے کے بکھرنے کی تصاویر بھی دکھائیں۔

سرکاری بیان میں جنوبی مراکش کے صوبہ الحوز میں واقع ایغیل میں زلزلے کے مرکز کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ پہاڑی مقام ہے اور یہاں لینڈ سلائڈنگ سے سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے امدادی کاروائیوں میں تاخیر ہورہی ہے۔

امریکی جیو فزیکل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.8 تھی۔ اس کا مرکز سیاحتی شہر مراکش کے جنوب مغرب میں دارالحکومت رباط سے 320 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر مراکش کے جنوب میں ناقابل رسائی علاقوں میں تھے۔

امریکی جیولوجیکل سروے نے بتایا کہ زلزلہ مراکش کے شہر مراکش سے تقریباً 72 کلومیٹر مشرق میں آیا۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ دمنات میں ایک عمارت گرنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ایک تکلیف دہ فون کال کے بارے میں بھی بتایا۔

سوشل میڈیا پر کچھ اکاؤنٹس نے زلزلے کے پہلے لمحات دکھائے۔ پلیٹ فارم پر پوسٹ کیے گئے ویڈیو کلپس میں لوگوں کو سڑکوں اور عمارتوں میں لرزتے اور بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مراکش میں اس سے قبل آنے والے بڑے زلزلوں میں 24 فروری 2004 کو رباط سے 400 کلومیٹر شمال مشرق میں الحسیمہ صوبے میں 6.3 کی شدت کا زلزلہ شامل ہے جس میں 628 افراد ہلاک اور شدید مادی نقصان ہوا۔

29 فروری 1960 کو ایک زلزلے نے ملک کے مغربی ساحل پر واقع اغادیر شہر کو تباہ کر دیا، جس سے 12,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اس شہر کی ایک تہائی آبادی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں