مراکش زلزلہ

کیا ولندیزی ماہر نے مراکش کے زلزلے کی پیشین گوئی کچھ دن پہلے کی تھی؟

ہوگریبیٹس نے 5 اور 7 ستمبر کے درمیان ایک پرتشدد زلزلہ آنے کی توقع ظاہر کی تھی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اسے 20 سال میں زمین کا پانچواں سب سے زیادہ پرتشدد زلزلہ سمجھا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دنیا میں کہیں بھی کسی بھی زلزلے کے بعد ولندیزی سیسمولوجسٹ فرینک ہوگریبیٹس کا نام سامنے ضرور آتا ہے، خاص طور پر اگر انہوں نے اس زلزلے سے پیشتر کوئی پیش گوئی کی ہو۔

مراکش میں آج ہفتہ کی صبح آنے والے زلزلے کے بعد ان کی ایک پیش گوئی کا حوالہ دیا جارہا ہے۔

کچھ دن پہلے، انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا کہ ''آج عطارد اور زہرہ دو سیاروں کی قربت مشتری اور یورینس کے ساتھ دو قمری ملاپ کے ساتھ ملتے ہیں۔

6 ستمبر کو عطارد اور زہرہ کے ساتھ ایک اور ملاپ ہوتا ہے۔

5 سے 7 ستمبر تک اس کے نتیجے میں زوردار زلزلے کی توقع ہے۔

مراکش میں ہفتے کی صبح آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جس سے مراکش اور دیگر شہروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

رباط میں واقع نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک اینڈ ٹیکنیکل ریسرچ نے بتایا کہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 ڈگری تک پہنچ گئی اور اس کا مرکز الحوز صوبے میں تھا۔ مراکش کے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مملکت میں آنے والا یہ سب سے شدید زلزلہ تھا۔

خیال رہے کہ ، تقریباً دو ہفتے قبل، ڈچ سیسمولوجسٹ فرینک ہوگریبِٹس نے ایک ایسے زلزلے کے بارے میں خبردار کیا تھا جس کی شدت 8 ڈگری سے زیادہ ہو سکتی تھی، جس کی وجہ زمین ،مریخ اور نیپچون کا ایک سیدھ میں آنا اور ان دو سیاروں ک حوالے سے چاند کی پوزیشن تھی۔

اس وقت انہوں نے کہا کہ زمین مریخ اور نیپچون کے درمیان آہستہ آہستہ چل رہی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انہوں نے گذشتہ نومبر میں اس حالت کا حوالہ دیا تھا۔

انہوں نے بہت بڑے اور ہولناک زلزلے کا امکان ظاہر کیا جس کی شدت ٹیکٹونک دباؤ کے لحاظ سے 8 ڈگری سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

گذشتہ اتوار، اپنے تازہ ترین بلیٹن میں جو ڈچ سائنسدان باقاعدگی سے ارضیاتی ادارے کی ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں کہا کہ یہ ممکن ہے کہ اس مہینے کی 29 تاریخ کے آس پاس زلزلوں میں اضافہ ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ "نظامِ شمسی میں ہم مریخ اور نیپچون کے ساتھ دوہرے دائیں زاویے کی پوزیشن دیکھتے ہیں جس اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ 2-3 دنوں کے اندر، ہم ایک طاقتور زلزلے کا شکار ہو سکتے ہیں، ماضی میں ایسا ہو چکا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک زور دار زلزلہ کا انحصار اس علاقے میں زمین کی پرت پر ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس کا مریخ اور نیپچون کے ساتھ ساتھ مشتری اور یورینس کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ"اگر یہ اگلے 24 گھنٹوں یا اگلے چند ہفتوں میں واقع ہوتا ہے، تو یہ 20 سالوں میں اس شدت کا پانچواں بڑا زلزلہ ہوگا"

ولندیزی ماہر کے انتباہات سے پوری دنیا میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے، انہوں نے گذشتہ کچھ عرصے کے دوران واقع ہونے سے پہلے کئی بار زلزلوں یا جھٹکوں کی پیش گوئی کی ہے۔

وہ اپنی پیشین گوئیوں کو سیاروں کی حرکات سے جوڑتے ہیں، جن میں سب سے اہم 6 فروری کو ترک سرزمین پر آنے والے تباہ کن زلزلے کے بارے میں پیشین گوئی تھی جس میں 50,000 سے زیادہ اموات اور ہزاروں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے۔ انہوں نے زلزلے سے تین روز قبل اس کی پیش گوئی کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں