افغان طالبان کی پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اہم سرحدی گذرگاہ کی بندش پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کے طالبان حکام نے رواں ہفتے دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد پاکستان کے ساتھ اپنی اہم سرحدی گذرگاہ کی بندش پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی بندش سے کاروباروں کا بھاری نقصان ہوگا۔

مقامی حکام کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کی فورسز نے بدھ کو ایک دوسرے پر فائرنگ کردی تھی جس کے بعد طورخم بارڈر کراسنگ بند کردی گئی تھی۔

طالبان انتظامیہ کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان کی جانب سے طورخم گیٹ کی بندش اور افغان سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے بعد یہ سمجھتی ہے کہ اس کا رویہ اچھی ہمسائیگی کا غماز نہیں ہے۔

بیان کے مطابق یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے سرحد کے قریب افغان طالبان فورسز پر فائرنگ کی تھی۔وہ اس وقت ایک پرانی چوکی کی بحالی کا کام کررہے تھے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے فوری طور پراس بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طورخم گیٹ کی بندش سے دوطرفہ اور علاقائی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور دونوں اطراف کے عام تاجر طبقے کو تجارتی اور مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

طورخم گذرگاہ کی بندش کے بعد سامان سے لدے سیکڑوں ٹرکوں کو سرحد کے دونوں جانب روک دیا گیا ہے اور تاجروں نے شکایت کی ہے کہ ان کے کاروبار متاثر ہورہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر (1،615 میل) طویل سرحد واقع ہے۔ اس سے جڑے تنازعات کئی دہائیوں سے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تنازع کی وجہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں