زلزلے سے مراکش میں کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے،لاشیں نکالنے کا عمل جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش میں جمعے کی شب ایک صدی کے مہلک ترین زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد دو ہزار سے زائد ہو گئی ہے اور ملک میں تین دن کے لیے قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔ مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی نے اموات میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حکام اس آفت سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے اور ان کی فہرست بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے

انھوں نے العربیہ/الحدث کو آج اتوار کے روز جاری کیے گئے بیانات میں کہا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ زلزلے کے مرکز کے آس پاس واقع کئی دیہات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو پر کام کرنے کے حکام کے عزم پر زور دیا۔

وزارت داخلہ نے کل شام ایک سابقہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2,012 تک پہنچ گئی ہے۔

مراکش میں آنے والے زلزلوں میں اموات

زلزلے سے زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد بڑھ کر 2,059 ہوگئی، جن میں 1,404 کی حالت تشویشناک ہے۔ حکومتی ذریعے کے مطابق زخمیوں کو بچانے، انہیں نکالنے، زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے اور انہیں بچانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

مراکش کے جنوب میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں الحوز میں 1,293 اور تارودانت میں 452 میں اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان دونوں خطوں میں کوہ اطلس کے قلب میں بکھرے ہوئے بہت سے دیہات شامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر ناقابل رسائی علاقے ہیں اور ان میں موجود عمارتوں کی اکثریت زلزلہ پروف نہیں۔

مراکش سے زلزلے کے بعد کا منظر

قابل ذکر ہے کہ 24 فروری 2004 کو رباط سے 400 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع الحسیمہ گورنری میں 6.4 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں 628 افراد ہلاک اور شدید مادی نقصان ہوا تھا۔

دریں اثناء 29 فروری 1960ء کو 5.7 شدت کے زلزلے نے ملک کے مغربی ساحل پر واقع اغادیر شہر کو تباہ کر دیا، جس سے 15,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ تعداد شہر کی ایک تہائی آبادی کے برابر تھی

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں