مراکش زلزلہ

مراکش:تباہ کن زلزلے کے بعد قومی سوگ کا پہلادن؛ مہلوکین کی تعداد دو ہزار سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مراکش میں زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔مراکشی عوام نے اتوار کے روز تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں سوگ منایا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم دیہات کے ملبے تلے دبے ہوئے افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شمالی افریقا میں واقع ملک میں ریکارڈ کیے گئے اب تک کے سب سے شدید زلزلے میں 2،012 افراد ہلاک اور 2،000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سیکڑوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

جمعہ کی شب 6.8 شدت کے زلزلے کا مرکز مشہوری سیاحتی مقام مراکش کے جنوب مغرب میں 72 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا ۔اس کے نتیجے میں جبال الاطلس کے پہاڑی سلسلے میں واقع بیشتر دیہات تباہ ہو گئے ہیں۔

مراکشی فوج کی ٹیموں اور ہنگامی خدمات کے کارکنان نے زلزلے سے متاثرہ دور دراز پہاڑی دیہات تک پہنچنے کی کوشش کی ہے جہاں متاثرین کے اب بھی گھروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔منہدم ہونے والے زیادہ مکانات مٹی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبہ الحوز تھا جہاں سب سے زیادہ 1293 ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس کے بعد صوبہ ترودانت کا نمبر آتا ہے جہاں 452 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔اتوار کے روز شہریوں نے بہت سے زخمیوں کو خون کا عطیہ دینے کے لیے مراکش کے اسپتالوں کا رُخ کیا۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سرکاری حکام امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے متحرک ہیں۔

’سب کچھ کھو دیا‘

پہاڑی گاؤں مولیٰ ابراہیم کے رہائشی الحسین نے کہا کہ میں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ان کی بیوی اور چار بچے ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔امدادی کارکنوں نے ان کی تین بیٹیوں کی لاشیں ان کے گھر کے ملبے سے نکالیں لیکن ابھی تک ان کی اہلیہ اور بیٹے کی باقیات نہیں مل سکی ہیں۔

انھوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’’میں اب اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا، میں صرف دنیا سے دور جانا چاہتا ہوں اور ماتم کرنا چاہتا ہوں‘‘۔

مولیٰ ابراہیم کی ایک اور مکین بشریٰ نے اپنے سرپوش سے آنسو خشک کیے اور وہ زلزلے میں مرنے والوں کی قبریں کھودتے اپنے مردوں کو دیکھ رہی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’میرے کزن کے پوتے پوتیاں مر چکے ہیں۔ میں نے زلزلے کی تباہی کو براہ راست دیکھا اور میں اب بھی کانپ رہی ہوں۔ یہ آگ کے ایک گولے کی طرح تھا جس نے اپنے راستے میں موجود ہر چیز کو نگل لیا۔یہاں ہر کسی نے اپنی خاندان کو کھو دیا ہے، چاہے وہ ہمارے گاؤں میں ہو یا علاقے میں کہیں اور رہتا ہو‘‘۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک ٹیم نے خبر دی ہے کہ مراکش سے 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع گاؤں طفیغاغتے زلزلے سے قریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

اس گاؤں کے ایک مکین بہتر سالہ مکین عمر بن ھنا کا کہنا تھا کہ ’’میرے تین پوتے پوتیاں اور ان کی ماں مر چکے ہیں۔وہ اب بھی ملبے کے نیچے ہیں۔یہ کوئی وقت نہیں گزرا کہ ہم ایک ساتھ کھیل رہے تھے‘‘۔

مقامی لوگوں نے ہفتہ کے روز قریباً 70 لاشوں کو دفن کیا تھا، جنازے کے وقت لوگوں کے رونے اور چیخنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔شام کے وقت ٹیلی ویژن چینلوں نے فضائی تصاویر نشر کیں جن میں صوبہ الحوز میں واقع مٹی کے گھروں پر مشتمل پورے گاؤں کو مکمل طور پر تباہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

عام طور پر مصروف سیاحتی مقام مراکش کے بہت سے رہائشیوں نے دوسری رات سڑکوں پر سوتے ہوئے گزاری۔ انھوں نے کمبلوں کے نیچے اپنے سامان سے بھرے بیگ رکھے ہوئے تھے۔

مراکش شہر کی مکین فاطمہ ستار نے کہا کہ بہت سے لوگ زلزلے کے بعد اپنے گھروں کے گرنے کے خوف سے سڑک پر سو رہے تھے۔ہمارے لیے کوئی مدد نہیں پہنچی ہے۔ ہمارے گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ کئی ایک تباہ ہو گئے ہیں، جیسے میری بیٹی کا گھر منہدم ہوچکا ہے۔ہم افراتفری کی حالت میں ہیں۔

شہر کے تاریخی جیما الفنا اسکوائر میں قریباً 20 افراد کمبل میں لپٹے زمین پر پڑے ہوئے تھے جبکہ دیگر قریبی ٹاؤن ہال کے لان میں ٹھہرے ہوئے تھے، جس کی 12 ویں صدی کی فصیل جزوی طور پر منہدم ہو گئی تھی۔

ہسپانوی سیاح ماریہ کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے رات قدیم شہر سے باہر ایک محفوظ جگہ پر گزاری‘‘۔

امداد کی پیش کش

مراکش نے ہفتے کو زلزلے کے بعد تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا جبکہ فرانس، اسرائیل، اٹلی، اسپین اور امریکا سمیت متعدد ممالک نے امداد کی پیش کش کی ہے۔

امریکا کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جون فائنر نے کہا:’’ہماری سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ہم مناسب وقت پر فنڈز جاری کرنے کے لیے بھی تیار ہیں‘‘۔

دریں اثنا اسپین نے کہا ہے کہ رباط کی جانب سے مدد کی باضابطہ درخواست موصول ہونے کے بعد وہ سرچ اور ریسکیو ٹیمیں اور دیگر امدادی ٹیمیں مراکش بھیجے گا۔

الجزائرنے ، جس کے ہمسایہ ملک مراکش کے ساتھ طویل عرصے سے تعلقات کشیدہ ہیں، دو سال سے بند اپنی فضائی حدود کو انسانی امداد لے جانے والی پروازوں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے کھول دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ، جن کے ملک نے حالیہ برسوں میں مراکش کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں،تلاش اور بچاؤ کی ٹیمیں بھیجنے کی پیش کش کی اور کہا ہے کہ ’’اسرائیل مشکل کی اس گھڑی میں مراکش کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

دریں اثناء ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور تعمیرِنومیں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ریڈکراس کے مشرق اوسط اور شمالی افریقا کے ڈائریکٹر حسام الشرکاوی نے کہا کہ یہ ایک یا دو ہفتے کی بات نہیں ہوگی۔ ہم ایک ایسے جواب پر بھروسا کر رہے ہیں جس میں برسوں نہیں تو مہینوں لگیں گے۔

زلزلے کے جھٹکے ساحلی شہروں رباط، کاسابلانکا اور أغادیر میں بھی محسوس کیے گئے جہاں رات گئے بہت سے خوف زدہ رہائشی سڑکوں پر نکل آئے۔مراکش میں 1960 میں أغادیر میں آنے والے زلزلے کے بعد سے یہ سب سے مہلک زلزلہ تھا۔اس وقت 12 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں