چین کی عالمی نظام کا رُخ موڑنے کی منشا ہے،مگر میں اس کو روکنا نہیں چاہتا: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ وہ چین کو ’’روکنا‘‘نہیں چاہتے ہیں مگر انھوں نے چین پرالزام عاید کیا ہے کہ وہ عالمی نظام کا رُخ اپنی منشا کے مطابق موڑنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ اس وقت دونوں طاقتوں کے درمیان تجارت، سلامتی اور حقوق کے معاملے پر گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔

جو بائیڈن نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے نئی دہلی میں جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر چین کے وزیر اعظم لی کیانگ سے ملاقات کی تھی اوران سے ’’استحکام‘‘ پر تبادلہ خیال کیا تھا لیکن وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کا اعلان نہیں کیا تھا-

جوبائیڈن نے ہنوئی میں ایک نیوز کانفرنس میں چینی وزیراعظم سے اس ملاقات کا انکشاف کیا، جہاں انھوں نے ویت نام کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ واشنگٹن بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے پیش نظر ایشیا اور بحرالکاہل میں اپنے اتحادیوں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان متعدد عالمی امورپر اختلافات پائے جاتے ہیں اور بائیڈن نے چین پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی نظام کو اپنی منشا کے مطابق جھکانے کی کوشش کررہا ہے۔

بائیڈن نے نیوز کانفرنس میں کہا:’’اب جو چیزیں ہو رہی ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ چین تجارت اور دیگر معاملات کے حوالے سے کھیل کے کچھ اصولوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے‘‘۔

واشنگٹن نے اپنی بحرہند اور بحرالکاہل کی حکمت عملی کے حصے کے طور پر اتحاد بنانے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس میں بھارت، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ چارفریقی سکیورٹی ڈائیلاگ اور برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ آکس معاہدہ شامل ہے۔

تاہم جوبائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا چین کو مسدود کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے بلکہ تعلقات کے لیے واضح زمینی اصول وضع کرنا چاہتا ہے۔

’’میں چین کو روکنا نہیں چاہتا۔میں صرف اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہمارے چین کے ساتھ تعلقات ایسے ہوں جو اوپر اوربلندہوں، ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ سب کیا ہے؟‘‘ان کا کہنا تھا۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے جی 20 اجلاس میں شرکت نہیں کی کیونکہ بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان علاقائی اور دیگرامور پر کش مکش چل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں