ہنگامہ خیز فرار کے بعد ۔۔ جیل سے مفرور برطانوی فوجی کیسے دوبارہ گرفتار ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے جیل سے فرار ہونے والے سابق برطانوی فوجی دانیال عابد خلیفہ کو تین روز کی کوشش کے بعد دوبارہ حراست میں لے لیا ہے۔

دانیال خلیفہ چھ ستمبر کی صبح لندن کی وینڈز ورتھ جیل سے فرار ہوئے تھے جن کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمہ چلایا جانا تھا۔

لندن پولیس نے دانیال کی اطلاع دینے والے کے لیے 20 ہزار پاؤنڈ کا اعلان بھی کیا تھا جب کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ملک کے تمام اندرونی و بیرونی راستوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی تھی۔

ہفتے کو میٹروپولیٹن پولیس نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس [سابقہ ٹوئٹر] پر ایک بیان میں بتایا کہ پولیس آفیسرز نے ہفتے کی صبح گیارہ بجے چسوک کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران ملزم کو حراست میں لیا اور وہ اب تک پولیس کی تحویل میں ہے۔

واضح رہے کہ دانیال خلیفہ کو جیل کے کچن میں کام کاج پر لگایا گیا تھا اور وہ چھ ستمبر کو ایک ڈیلیوری وین کے نچلے حصے سے چمٹ کر جیل کی حدود سے فرار ہوگیا تھا۔

لندن میں HMP Wandsworth کا ایک عمومی منظر جہاں دہشت گردی سے متعلقہ الزامات پر مقدمے کا انتظار کرنے والا ایک برطانوی فوجی بدھ، 6 ستمبر 2023 کو جنوب مغربی لندن کی ایک جیل سے فرار ہو گیا ہے اور پولیس نے فوری تلاش شروع کر دی ہے۔ کاؤنٹر ٹیرر پولیس کا کہنا ہے کہ دانیال عابد خلیفہ بدھ کی صبح وینڈز ورتھ جیل سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ (Yui Mok/PA بذریعہ AP)

جیل سے فرار کے وقت دانیال سفید ٹی شرٹ اور سرخ و سفید چیک کے شیف کے یونیفارم میں ملبوس تھا۔

دانیال پر 2021 میں ایسی معلومات افشا کرنے کی کوشش کا الزام تھا جو کسی بھی ایسے شخص کے لیے مفید ہو سکتی تھیں جو دہشت گردی کی کسی کارروائی کا ارتکاب یا اس کی تیاری کر رہا ہو۔

دانیال 28 جنوری کو لندن کی ایک عدالت میں پیش ہوا تھا اور اسے وسطی انگلینڈ کے علاقے اسٹینفرڈ میں رائل ایئر فورس کے ایک اڈے پر دو مختلف واقعات کے سلسلے میں ریمانڈ پر حراست میں رکھنے کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔

دانیال پر الزام ہے کہ اس نے رواں برس جنوری میں رائل ایئر فورس اڈے پر ایک مشتبہ ڈیوائس رکھ کر بم کے خطرے کا دھوکہ دیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت 13 نومبر کو جنوبی لندن میں وول ورتھ کراؤن کورٹ میں ہونا ہے۔

لندن کی وینڈز ورتھ جیل سے ماضی میں قیدیوں کے فرار کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ فرار ہونے والے مشہور قیدیوں میں گریٹ ٹرین رابر رونی بگز بھی شامل تھے جنہوں نے وینڈز ورتھ جیل کی دیوار کو رسی کی ایک سیڑھی استعمال کر کےعبور کیا اور ایک وین کے ذریعے فرار ہوئے۔

وہ ایک ڈاک کی ٹرین سے چوری کے سلسلے میں 30 سال جیل کی سزا کاٹ رہے تھے۔ عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد صرف 19 ماہ میں فرار ہوئے اور 36 سال تک مفرور رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں