الریاض:سعودی عرب کی میزبانی میں یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا تاریخی اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب یونیسکوکی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کے پینتالیسویں چیئرمین کی حیثیت سے الریاض میں اتوار سے جاری ایک توسیعی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا یہ تاریخی اکٹھ ہر چار سال کے بعد منعقد ہوتا ہے اور یہ 25 ستمبر تک جاری رہے گا۔

یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی 21 ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ ان کی اجتماعی ذمے داریوں میں عالمی ثقافتی ورثہ کنونشن پر عمل درآمد، عالمی ثقافتی ورثہ فنڈ کے استعمال کا انتظام، اس بات کا تعیّن کرنا کہ کون سے مقامات باوقار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت کے مستحق ہیں، اور دنیا بھر میں عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کے تحفظ کی کوششوں کی نگرانی کرنا شامل ہیں۔

یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کے 45 ویں چیئرمین کی حیثیت سے سعودی عرب کا انتخاب اور اب توسیعی اجلاس کی میزبانی کا اعزاز عالمی ورثے کے تحفظ کی وکالت میں مملکت کے کلیدی کردار کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ یونیسکو کے وسیع مقاصد اور اُمنگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

اس اجلاس کا آغاز الریاض میں واقع تاریخی المربع محل میں اتوار کو ایک شاندار تقریب سے ہوا۔اس کا موضوع ’’ایک دُوراندیش کل کے لیے ایک ساتھ‘‘ تھا۔ اس میں ثقافت اور ورثے کی حفاظت اور جشن منانے کی انتہائی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی اور یہ کہا گیا کہ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور مستقبل کے چیلنجوں کو قبول کر رہی ہے۔

سعودی وزیر ثقافت اور سعودی قومی کمیشن برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس کے چیئرمین شہزادہ بدر بن فرحان نے میزبان کی حیثیت سے سعودی عرب کے کردار پر فخر کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ مملکت کو عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کے اس اجلاس کی میزبانی پر فخر ہے۔ثقافتی ورثہ سعودی عرب کی شناخت کا مرکز ہے اور قومی اور عالمی سطح پر متحد قوت کے طور پر کام کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس اہم بین الاقوامی مکالمے میں مملکت کی فعال شرکت آنے والی نسلوں کے لیے ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے لیے ہمارے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔یونیسکو اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ شراکت داری میں ہم عالمی سطح پرپائیدار ترقی،اپنے مشترکہ ویژن کے اہداف کے حصول اورعالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے وسیع ترعالمی تعاون اور اجتماعی استعداد کار میں اضافے کی امید رکھتے ہیں۔

سعودی عرب کو اس کے شاندار ورثے اور متنوع ثقافت کی وجہ سے تسلیم کیا جاتا ہے۔اس وقت مملکت کے چھے مقامات یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔ ان میں آثار قدیمہ کا مشہور مقام الحِجر، الدرعیہ کا علاقہ الطریف، تاریخی شہرجدہ، حَائِل ریجن میں واقع راک آرٹ، الاحسَاء کا نخلستان اور حما کا ثقافتی علاقہ شامل ہیں۔ مزید برآں، سعودی عرب میں ایک اور مقام اس وقت کمیٹی کے رواں اجلاس میں ثقافتی ورثے میں شمولیت کے لیے زیرِغور ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں