تنگ سڑکیں اور کچے مکانات، مراکش کے اطلس پہاڑ میں ریسکیو کی مشکلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ہفتہ کی صبح مراکش میں الحوز صوبے میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ہونے والی تباہی جس میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، امدادی ٹیمیں ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم زلزلے کا مرکز اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقے الحوز صوبے کے مناظر بتاتے ہیں کہ یہ کام کافی دشوار ہے۔

امدادی کارکنوں کو اطلس کے پہاڑی علاقے میں سب سے زیادہ متاثرہ دیہاتوں تک پہنچنے کے لیے چیلنج کا سامنا ہے، یہ ایک ناہموار پہاڑی سلسلہ ہے جہاں رہائشی علاقے اکثر دور دراز ہوتے ہیں، اور بہت سے مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔


کچی اینٹوں اور لکڑی کے مکانات

علاقے میں زیادہ تر مکانات مٹی کی کچی اینٹوں اور لکڑی سے بنائے گئے ہیں اور زلزلے کے جھٹکوں سے کئی عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔

ان علاقوں میں تنگ کچی سڑکوں کی وجہ سے ایمبولینسوں اور امدادی گاڑیوں کا پہنچنا مشکل ہوگیا ہے۔

کچھ دیہاتوں میں، گدھوں کو تنگ سڑکوں کے ذریعے ملبے کے نیچے پڑے مکان کی باقیات کو لے جاتے دیکھا گیا۔ چونکہ اکثر رہائشی زیادہ تر زراعت کا کام کرتے ہیں، اور عام طور پر گدھے پالتے ہیں۔

الحوز صوبہ، مراکش سے (رائٹرز)
الحوز صوبہ، مراکش سے (رائٹرز)


دوسری بلند ترین چوٹی

حوز کا علاقہ پہاڑی خصوصیات رکھتا ہے، پہاڑ اس کے رقبے کا تقریباً تین چوتھائی حصہ ہیں۔

اس خطے میں افریقہ کا دوسرا بلند ترین پہاڑ اور اطلس پہاڑوں کی سب سے اونچی چوٹی بھی شامل ہے جو کہ جبل توبقال ہے۔

الحوز صوبہ، مراکش سے (رائٹرز)
الحوز صوبہ، مراکش سے (رائٹرز)

کچھ صنعتی دستکاری کے ساتھ ساتھ زراعت اس کی اکثریتی آبادی کا ذریعہ معاش ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کی شب مراکش میں آنے والا یہ زلزلہ 1960 میں اغادیر میں آنے والے زلزلے کے بعد سے ملک میں متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے جب اغادیر میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 12,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مراکش کے اطلس پہاڑوں سے
مراکش کے اطلس پہاڑوں سے

اتوار کی شام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس زلزلے سے 2,122 ہلاک اور 2,421 زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں