زلزلوں سے پہلے بلیو فلیش کی حقیقت کیا ہے؟ ماہرین کی آراء سامنے آگئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ اور مراکش میں زلزلوں سے پہلے افق پر نمودار ہونے والی نیلی روشنی کی پراسرار چمک کو دیکھنے کے بعد ماہرین کی طرف سے اس پراسرار فلکی مظہر کے بارے میں آراء سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔

سعودی عرب کی القصیم یونیورسٹی سے منسلک ماہرموسمیات اور سعودی ویدر اینڈ کلائمیٹ سوسائٹی کے نائب صدر عبداللہ المسند نے اس معاملے پر اپنی علمی رائے پیش کی ہے۔

المسند نے اتوار کو "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "یہ واقعہ دنیا میں ایک سے زیادہ بار زلزلوں کے واقعات میں دیکھا گیا ہے۔ کئی باراس کی عکس بندی بھی کی گئی اور یہ منظر کیمروں میں ریکارڈ ہوگیا۔

اس کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ بصری اور خصوصی واقعہ کچھ زلزلوں سے منسلک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ زلزلے کے مرکز سے نکلتی ہے جہاں فالٹ لائن واقع ہے۔ یعنی یہ ٹیکٹونک دباؤ کی سب سے زیادہ مقدار والے مقام سے نکلتی ہے۔ اس مظہر کو EQL EarthQuake Lights کہا جاتا ہے۔ "

تحقیق جاری ہے

انہوں نے مزید کہا کہ "اس مظہر کی سائنسی تشریح اب بھی ماہر سائنسدانوں کے ہاں زیر بحث ہے۔ ان کے درمیان اختلاف بھی ہے۔ ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ زلزلہ چٹانوں میں برقی چارجز کو متحرک کرتا ہے۔ جس سے لاکھوں منفی چارج شدہ آکسیجن ایٹم ٹوٹ جاتے ہیں۔ چٹانیں پس جاتی اور پھر یہ آکسیجن سطح پر آکر چارج شدہ گیس میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو روشنی خارج کرتی ہے۔"

انہوں نے کہا یہ کہا جاتا ہے کہ جب ایک مضبوط زلزلہ کی لہر زمین سے گزرتی ہے، تو یہ چٹانوں کو مضبوطی اور تیزی سے سکیڑتی ہے، جس سے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جہاں سے مثبت اور منفی برقی چارجز کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کو پلازما سٹیٹ کہا جاتا ہے، جو پھٹ سکتی ہے اور آگ کو ہوا میں چھوڑ سکتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ مٹی کےتودوں کے پھسلنے اور ٹوٹنے سے لاکھوں وولٹ الیکٹرو سٹیٹک چارج پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ امریکی جیولوجیکل سروے اس بارے میں محتاط ہے کہ زلزلے کی روشنیاں واقعی موجود ہیں یا نہیں؟"

مگر ایسا ہر بار نہیں ہوتا

پروفیسر المسند نے وضاحت کی ہے کہ "ہر بار آنے والے زلزلے کے ساتھ روشنیاں ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ یہ بہت کم ہوتی ہیں۔ اس کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ بعض مطالعات کے مطابق زلزلے کی روشنی کا ظہور اس وقت ہوتا ہے جب اس کی شدت زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 ڈگری یا اس سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے دوران کہرمان اور ھاتائے صوبوں میں زلزلوں سے قبل متعدد روشنیاں مسلسل نمودار ہوئیں۔ مراکش کے زلزلے سے قبل بھی نیلی روشنی کی چمک دیکھی گئی۔"

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مراکش کی وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ کی رات مراکش کے جنوب میں مراکش کے وسیع علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد اتوار کی سہ پہر تک بڑھ کر کم از کم 2,122 ہو گئی اور 2,421 زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں