سعودی عرب اورروس کی پیداوار میں کٹوتی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب اور روس کی جانب سے خام تیل کی پیداوار میں حالیہ کٹوتی کے بعد پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گذشتہ ہفتے تیل کی قیمتیں 10 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

سعودی عرب اور روس نے گذشتہ ہفتے تیل کی یومیہ پیداوار میں 13 لاکھ بیرل (بی پی ڈی) کی رضاکارانہ کٹوتی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی میں رضاکارانہ کٹوتی اختتامِ سال تک جاری رہے گی۔

پیر کے روز برینٹ کروڈ 23 سینٹ یا 0.25 فی صد کی کمی سے 90.42 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 46 سینٹ یا 0.53 فی صد کی کمی کے بعد 87.05 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔

تیل کی رسد میں کٹوتی کے وقت گذشتہ ہفتے چین کی اقتصادی سرگرمیوں پر جاری تشویش کو نظرانداز کیا گیا تھا، لیکن سرمایہ کار آج طلب کے محرکات پر توجہ مرکوز کرتے نظر آئے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اسی ہفتے اپنی ماہانہ رپورٹ جاری کرنے والی ہیں۔

آئی ای اے نے گذشتہ ماہ خام میکرو اقتصادی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے تیل کی طلب میں اضافے سے متعلق اپنی 2024 کی پیشین گوئی کو کم کرکے 10 لاکھ بیرل یومیہ کردیا تھا جبکہ اوپیک کی اگست کی رپورٹ میں طلب میں ساڑھے بائیس لاکھ بیرل یومیہ اضافے کی پیشین گوئی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

مختلف اقتصادی عوامل میں سے ایک، یورپ کا مرکزی بینک (ای سی بی) اس ہفتے اپنی ماہانہ شرح سود کے فیصلے کا اعلان کرنے والا ہے۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ یورو زون میں 2023 اور 2024 میں پہلے کی توقع سے کہیں زیادہ سست روی سے اقتصادی ترقی کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔اب اس زون کی پانچ بڑی معیشتوں کے لیے اس سال جی ڈی پی کی شرح نمو 0.8 فی صد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور یہ مئی میں 1.1 فی صد کی پیشین گوئی سے کم ہے۔

دریں اثنا، امریکا میں اگست کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعداد و شمار بدھ کو آنے والے ہیں اور یہ اس بات کا تعیّن کر سکتے ہیں کہ آیا شرح سُود میں مزید اضافہ کیا جائے گا یا نہیں۔

زئی کیپٹل مارکیٹس کے نعیم اسلم کا کہنا ہے کہ اس ہفتے امریکا کے لیے اہم معاشی اعدادوشمار افراطِ زر ہی کے ہوں گے۔ان کا بازارِ حصص (اسٹاک) اورزرمبادلہ (فاریکس) سے لے کرمتعیّن آمدن اور اجناس کی قیمتوں تک ہر چیز پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں