سعودی ولی عہد کے سرکاری دورہ بھارت کے آغاز پر شاندار استقبالیہ تقریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نئی دہلی میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھارت میں اپنے سرکاری دورے کا آغاز ایک شاندار استقبالیہ تقریب سے کیا۔ اس موقع پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔

وہ گذشتہ جمعے کو جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے تھے۔ اتوار کو جی 20 اجلاس ختم ہوا تھا اور سعودی ولی عہد نے دوطرفہ دورے کا آغاز کیا۔

سعودی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نئی دہلی میں راشٹرپتی بھون (انڈین صدر کی سرکاری رہائش گاہ) میں استقبال کیا۔

یہ سعودی ولی عہد کا انڈیا دوسرا دورہ ہے اس سے قبل وہ فروری 2019 میں بھارت کا دورہ کر چکے ہیں۔

سعودی ولی عہد نے استقبالیہ تقریب کے بعد مختصر گفتگو میں کہا کہ ’انڈیا آکر ہمیں خوشی ہوئی۔ انڈیا اور جزیرہ نما عرب کے تعلقات ہزاروں سال پرانے ہیں۔‘

شہزادہ محمد سلمان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا ہمارا دوست ہے اور انہوں (انڈین شہریوں) نے 70 سال سے زائد عرصے کے دوران سعودی عرب کی تعمیر میں مدد کی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے انڈین سعودی عرب میں کام کرتے ہیں اور ترقی میں مدد کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو انڈیا، سعودی عرب اسٹریٹجک شراکت داری کونسل کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔

اس سے قبل جی 20 رہنماؤں کے سربراہ اجلاس کے موقعے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے انڈیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو جوڑنے والی اقتصادی راہداری کے منصوبے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کا اعلان کیا تھا۔

سعودی ولی عہد کے استقبال کا منظر

اخبار سعودی گزٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد اقتصادی رابطے کو بڑھانا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر اور اپ گریڈ کرنا اور شریک فریقوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’یہ منصوبہ گذشتہ چند ماہ کے دوران ہماری مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ان اصولوں پر بنایا کیا گیا ہے جو اقتصادی رابطوں کو بڑھا کر اور دوسرے ممالک میں ہمارے شراکت داروں اور مجموعی طور پر عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرکے ہمارے ممالک کے مشترکہ مفادات پورے کرتے ہیں۔‘

’یہ منصوبہ ریلوے، بندرگاہوں کو جوڑنے، اور سامان اور خدمات کی ترسیل میں اضافے سمیت بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اپ گریڈیشن میں کردار ادا کرے گا، اس طرح شریک فریقین کے مابین تجارت میں اضافہ ہوگا۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں