لیبیا کے مشرقی علاقوں میں سمندری طوفان کے بعد سیلاب؛دو ہزارافراد کی ہلاکت کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کے مشرقی علاقوں میں سمندری طوفان کے بعد آنے والے سیلاب میں کم سے کم 150افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن ملک کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ بحرمتوسط میں آنے والے طوفان دانیال کی وجہ سے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں کم سے کم 2000 یا اس سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

مشرقی لیبیا میں قائم حکومت کے وزیر اعظم اسامہ حمّاد نے پیر کے روز المصر ٹیلی ویژن اسٹیشن کو ٹیلی فون کے ذریعے انٹرویو میں بتایا کہ مشرقی شہر درنہ میں دو ہزار افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ہزاروں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب سے درنہ کے تمام علاقے زیرآب آگئے ہیں اور اسے آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

مشرقی لیبیا کی حکومت کے وزیر صحت عثمان عبدالجلیل نے العربیہ سے ٹیلی فون پرگفتگو میں ہلاکتوں کی تعداد 27 بتائی ہے اور کہا ہے کہ ان اعداد و شمار میں درنہ شہر کی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔

شہر کے مرکزی طبّی مرکز نے بتایا کہ عبدالجلیل کی رپورٹ کی گئی اموات میں مشرقی قصبے بیضاء سے تعلق رکھنے والے 12 افراد بھی شامل ہیں۔ ایمبولینس اور ایمرجنسی اتھارٹی کے مطابق شمال مشرقی لیبیا کے ساحلی قصبے شاسعہ میں مزید سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ وزیر نے بتایا کہ دو اور قصبوں شہاتہ اور عمرالمختار میں سات مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم بعض خبررساں اداروں نے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ سو تک بتائی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق سیلاب کے بعد درجنوں افراد لاپتا ہوگئے ہیں اور حکام کو خدشہ ہے کہ وہ مشرقی لیبیا میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔سیلاب کے نتیجے میں لاتعداد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

سیلاب سے درنہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور یہ ناقابل رسائی ہوگیا ہے۔مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وہاں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے اور صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔

اختتام ہفتہ پر لیبی شہریوں نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج شیئر کی تھی جس میں مشرقی لیبیا کے کئی علاقوں میں مکانات اور سڑکیں پانی میں ڈوبے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وہ مدد کی اپیل کررہے تھے۔سیلاب کے بعد گھروں یا گاڑیوں میں محصور کررہ جانے والے افراد مدد کی اپیل کررہے تھے۔

مشرقی حکومت کے وزیراعظم نے سیلاب کی تباہ کاروں کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور ملک بھر میں قومی پرچم کو سرنگوں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

مشرقی لیبیا میں فوج کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے بنغازی اور دیگر مشرقی شہروں اور قصبوں میں مکینوں کی مدد کے لیے فوج تعینات کردی ہے۔خلیفہ حفتر کی افواج کے ترجمان احمد المسماری نے کہا کہ ان کا ان پانچ فوجیوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے جو بیضاء میں محصور خاندانوں کی مدد کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ 60 لاکھ سے زیادہ آبادی والا لیبیا ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تنازعات کاشکار ہے اور اس ملکی ڈھانچا تعمیر ومرمت نہ ہونے کی وجہ سے کم زور ہوچکا ہے۔2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ مسلح بغاوت کے بعد سے ملک میں افراتفری جاری ہے۔اس بغاوت میں طویل عرصے سے برسراقتدار مطلق العنان حکمران معمرالقذافی کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔

اس پر مستزاد یہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک گزشتہ ایک دہائی سے مشرق اور مغرب کی حریف حکومتوں کے درمیان تقسیم ہے۔ان ہر دو انتظامیہ کو متحارب مسلح گروہوں، ملیشیاؤں اور غیر ملکی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔

لیبیا کے بعد طوفان دانیال کے مصر کے بعض مغربی حصوں میں پہنچنے کا امکان ہے اور ملک کے محکمہ موسمیات کے حکام نے ممکنہ بارش اور خراب موسم کے بارے میں شہریوں کو خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں