واگنر کا ایک طیارہ مالی میں مار گرایا گیا، پوتین کی مالی کے ہم منصب سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شمالی مالی میں الطواریق نامی مسلح گروپ کے علاقے میں مسلح گروپوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ہفتے کی شام مالی کے ایک فوجی طیارے کو مار گرایا۔ اس واقعے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

مالی کے حکام نے اس اعلان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم شمال میں مسلح گروہوں کی طرف سے ایک فوجی طیارے کو مار گرانا حالیہ برسوں میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

طواریق کے زیر تسلط مسلح گروپوں کے اتحاد’فریڈم موومنٹ کوآرڈینیشن‘ نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام میں کہا کہ اس نے ہفتے کے روز "کوآرڈینیشن سائٹس پر بمباری کے بعد فاما/واگنر دہشت گردوں کا ایک طیارہ مار گرایا۔"

"واما" مالی کی مسلح افواج ہے جبکہ "واگنر" مسلح روسی گروپ ہے۔ بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ باماکو میں برسراقتدار فوجی جنتا انکار کے باوجود واگنر کی خدمات پر انحصار کرتی ہے۔

مالی میں آزادی کی تحریکوں کی رابطہ کاری اور مرکزی اتھارٹی کے درمیان کئی مہینوں سے تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ تناؤ 2013 سے مالی میں تعینات اقوام متحدہ کے مشن کے انخلاء کے آغاز کے ساتھ سامنے آیا تھا، جسے مالی کے حکام نے 2023 میں چھوڑنے پر زور دیا تھا۔

مسلح گروہوں نے علاقے پر کنٹرول کے لیے مقابلے کے درمیان مشن کے کیمپوں کو مالی کی فوج کو منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ جب کہ فوجی کونسل نے خودمختاری کی بحالی کو اپنے مقاصد میں سے ایک بنایا ہے۔

روسی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے کریملن کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتین نے اتوار کو مالی کے عبوری صدر سے فون پر بات کی اور انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں سمیت متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

کریملن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پوتین نے آج اتوار کو مالی کے عبوری صدر اسمی گوئٹا کے ساتھ فون پر بات کی اور انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں اور پڑوسی ملک نیجر میں بحران سمیت متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نیجر کے بحران کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارتی طریقے ہیں۔

مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری (ECOWAS) نے پہلے بازوم کو اقتدار میں بحال کرنے کے لیے فوجی مداخلت کی دھمکی دی تھی۔

مالی میں حکمران فوجی جنتا نے نیجر میں بیرونی مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں