ایران

ایران میں قید پانچ امریکی شہری مکمل صحت مند ہیں: ابراہیم رئیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ جیل میں قید پانچ امریکی شہریوں کی اگلے ہفتے کے اوائل میں امریکا میں قید پانچ ایرانیوں کے بدلے میں رہائی کا امکان ہے۔

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک این بی سی نے منگل کے روز ایرانی صدر کا ایک انٹرویو نشرکیا ہے۔ یہ تہران میں این بی سی نائٹلی نیوز کے لیسٹر ہولٹ کے ساتھ ریکارڈ کیاگیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ ’’وہ (امریکی قیدی) بہت صحت مند ہیں اور ہماری تازہ ترین معلومات کے مطابق، وہ مکمل صحت میں ہیں‘‘۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جن پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کا امکان ہے،ان میں 51 سالہ سیماک نمازی اور 59 سالہ عماد شرقی کے علاوہ 67 سالہ ماہر ماحولیات مراد تہ باز بھی شامل ہیں۔مؤخرالذکر کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے۔چوتھے اور پانچویں امریکی قیدی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ پہلی بار 10 اگست کو منظر عام پر آیا تھا۔اس کے حصے کے طور پر امریکا نے جنوبی کوریا سے 6 ارب ڈالر کی ایرانی رقوم کی قطری کھاتوں میں منتقلی سے اتفاق کیا تھا لیکن اس رقم کو صرف انسانی ہمدردی کی اشیاء کی خریداری پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔

اگرایران ان پانچوں قیدیوں کو رہا کردیتا ہےتو اس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک بڑی کشیدگی دور ہو جائے گی۔معاہدے سے واقف آٹھ ایرانی اور دیگر ذرائع کے مطابق قیدیوں کا تبادلہ اگلے ہفتے کے اوائل میں ممکن ہے۔اس پر قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی۔

مذاکرات سے آگاہ ایک ذریعے نے اس سے قبل کہا تھا کہ سوئس سفارت خانہ کے حکام نے پانچ امریکیوں سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ مکمل طور پر صحت مندہیں۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے سوئس سفارت خانہ ہی امریکا سے متعلق امور کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک این بی سی کی جانب سے انٹرویو کے جاری کردہ اقتباسات کے مطابق صدر رئیسی نے بتایا کہ ’’انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور قیدیوں کے تبادلے کی حتمی کارروائی کو مقررہ وقت میں حتمی شکل دی جائے گی‘‘۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ 6 ارب ڈالر صرف انسانی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران فیصلہ کرے گا کہ یہ رقم کس طرح خرچ کی جائے گی۔

ایرانی حکومت کے مترجم کے توسط سے انٹرویو میں رئیسی نے کہا:’’یہ رقم ایرانی عوام اور ایرانی حکومت کی ہے، لہٰذا اسلامی جمہوریہ ایران ہی فیصلہ کرے گا کہ اس رقم کا کیا کرنا ہے‘‘۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا یہ رقم انسانی ضروریات کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کی جائے گی؟ تو رئیسی نے کہا:’’انسانی ہمدردی کا مطلب وہ ہے جو ایرانی عوام کی ضرورت ہے، لہٰذا اس رقم کو ان ضروریات کے لیے مختص کیا جائے گا اور ایرانی عوام کی ضروریات کا فیصلہ اور تعیّن خود ایرانی حکومت کرے گی‘‘۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ رقم جنوبی کوریا کے محدود اکاؤنٹس سے قطر میں محدود کھاتوں میں منتقل کی جا رہی ہے اور امریکا اس بات کی نگرانی کرے گا کہ یہ رقم کس طرح اور کب استعمال کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں