صدر بائیڈن کے مواخذے کے لیے ایوان نمائندگان کے سپیکر نے تحقیقات کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ری پبلکن ہاؤس کے اسپیکر کیون میک کارتھی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کے لیے منظوری دے دی۔ کیون میک کارتھی پر پارٹی کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سخت گیر عناصر کا شدید دباؤ تھا۔

ڈیموکریٹک صدر نے، بقول میک کارتھی، اپنے بیٹے ہنٹر کے غیر ملکی کاروباری معاملات کے بارے میں امریکی عوام سے جھوٹ بولا۔ میں اپنی ہاؤس کمیٹی کو صدر جو بائیڈن کے خلاف مؤاخذے کی باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کر رہا ہوں۔

میک کارتھی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس ری پبلکنز نے صدر بائیڈن کے طرز عمل کے بارے میں سنگین اور قابل اعتماد الزامات کا پردہ فاش کیا ہے، یہ الزامات کرپشن کے کلچر کی تصویر کشی کرتے ہیں۔

بائیڈن کے 53 سالہ بیٹے ہنٹر کا یوکرین اور چین میں کاروباری لین دین جب کہ ان کے والد براک اوباما کے دور میں نائب صدر تھے ریپبلکنز کا مستقل ہدف رہے ہیں۔

ہنٹر بائیڈن اس وقت محکمہ انصاف کے خصوصی وکیل کی جانب سے ممکنہ ٹیکس چوری کے لیے زیر تفتیش ہے اور توقع ہے کہ اس ماہ کے آخر تک اس پر آتشیں اسلحے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جائے گا۔

تاہم، اس پر غیر ملکی کاروباری معاملات سے متعلق جرائم کا الزام نہیں لگایا گیا اور اب تک کوئی قابل اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا ہے کہ صدر کسی بھی غیر قانونی کام میں ملوث تھے۔

میک کارتھی پر 80 سالہ بائیڈن کے خلاف مواخذے کی تحقیقات شروع کرنے کے لیے کئی مہینوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کے وفادار دباؤ ڈال رہے تھے۔

وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے “انتہائی بدترین سیاست” قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں