مراکش کے متاثرین زلزلہ سے یکجہتی: دبئی کے ریستوران نے سوگواروں کے لیے دروازے کھول دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد دبئی کے ایک ریستوران کو پیر کی رات متحدہ عرب امارات میں رہنے والے غمزدہ مراکشی شہریوں کے لئے پناہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا جو اپنے آبائی ملک میں آنے والے زلزلے کی تباہ کاری اور ہلاکتوں پر ایک دوسرے کا غم بانٹتے رہے۔

ابو حائل کے پڑوس میں واقع البوغاز المغریبی ریستوراں نے اپنا کچن بند کر دیا اور متحدہ عرب امارات میں مراکشی شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔

اس اقدام کا مقصد لوگوں کو سوگ اور یکجہتی کے لیے اکٹھے ہونے کے لیے ایک جگہ فراہم کرنا تھا۔

" ریستوران کے مالک نے اخبار دی نیشنل کو بتایا۔ کہ"اگر ہم مراکش میں ہوتے تو ہم عملی امداد کی پیشکش کر سکتے تھے۔ لیکن دور ہونے کی وجہ سے، یہی ہے جو ہم اس وقت کر سکتے ہیں۔

جمعہ کو مراکش کے کئی علاقوں میں 6.8 شدت کے زلزلے نے تباہی مچائی اور اب تک تقریباً 2,900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اتوار کو ملک میں 3.9 شدت کا آفٹر شاک آیا، جس میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ریستوران میں دبئی اور عجمان کے مراکشی ائمہ نے متاثرین کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی اور آفت سے متاثرہ افراد کے لیے دعا کروائی۔

ریستوران نے مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ"ہم نے مراکش کے رہائشیوں کی غم زدہ افراد تعزیت کے لیے اس جگہ کو کھول دیا ہے خاص طور پر وہ جنہوں نے اپنے خاندان کے افراد کو کھو دیا اور وہ جو یہاں اپنے اہل خانہ سے دور اکیلے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں مراکشی کمیونٹی کے غم میں اکٹھے ہونے کے موقع کی تشہیر سوشل میڈیا پر کی گئی تھی، جس کا زبردست ردعمل ظاہر ہواکیا۔

اس دوران بہت سے شہریوں نے زلزلے کے حوالے سے اپنے اور مراکش میں موجود اپنے رشتہ داروں کے تجربات کا اشتراک کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں