ٹرمپ کو سیاسی انتقام کے تحت ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے: ولادی میر پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے منگل کے روز اپنے سابق امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی کھل کر حمایت کی ہے۔انہوں نے موجودہ امریکی انتظامیہ پر ٹرمپ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سال 2024ء میں امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کی طرف سے ایک بار پھر الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

روسی صدر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو آئندہ سال ہونے والے الیکشن میں صدر جوبائیڈن کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کی مہم چلانے پر سیاسی ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کریملن جس کے ٹرمپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں نے طویل عرصے سے سابق امریکی صدر کا دفاع کیا ہے۔ روس پر امریکا میں ہونے والے الیکشن میں مداخلت کا بھی الزام عاید کیا جاتا ہے۔

پوتین نے روس کے مشرق بعید میں واقع ولادی ووستوک میں ایسٹرن اکنامک فورم سے خطاب میں کہا کہ "ٹرمپ کے ظلم و ستم کے حوالے سے یہ ہمارے لیے اور موجودہ ماحول میں اچھا ہے، کیونکہ یہ امریکی نظام کی خرابی کی عکاسی کرتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ان کے حریف کی طرف سے سیاسی انتقام کےئ تحت روا ارکھا گیا ظلم ہے۔"

صدر پوتین نے مزید کہا کہ "یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس سے لڑ رہے ہیں۔ سوویت دور میں امریکا کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ’امریکی سرمایہ داری کا سفاک چہرہ‘۔

فروری 2022ء میں پوتین کے یوکرین پر حملے کے بعد سے واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

منگل کے روزپوتین نے کہا کہ وہ روس کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی کے موقف میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے۔ انہیں اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ آئندہ سال [2024ء] میں امریکا میں کون صدر منتخب ہوتا ہے۔

انہوں نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ امریکی شہریوں میں روس مخالف جذبات کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ حکام امریکی معاشرے کو روس مخالف جذبے سے چلا رہے ہیں۔"

ولادی میر پوتین نے کہا کہ "انہوں نے ایسا کیا اور اب جہاز کو دوسری طرف موڑنا کسی نہ کسی طرح بہت مشکل ہو جائے گا"۔

ٹرمپ اور ان کے دو بیٹوں کو اکتوبر سے دسمبر کے آخر تک دھوکہ دہی کے الزام میں تین ماہ کے دیوانی مقدمے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، کیونکہ نیویارک کی ریاستی عدالتوں نے ٹرمپ پر 2011 سے 2021 کے درمیان اپنے اثاثوں میں اربوں ڈالر کی "اضافہ" کرنے کا الزام لگایا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں واپسی کا خواب دیکھنے والے ٹرمپ کو یہ انتخابات جیتنے کا سب سے زیادہ امکان سمجھا جا رہا ہے۔

ابتدائی سماعت ستمبر کے آخر میں ہونے والی ہے۔

اس دیوانی مقدمے سے پہلے نیویارک کی ریاست کے اٹارنی جنرل (علاقائی وزیر انصاف کے مساوی) لیٹیا جیمز نے جمعہ کو مقامی سپریم کورٹ کو بتایا کہ ٹرمپ اور ان کے دو بیٹوں ڈونلڈ جونیئر اور ایرک کے خلاف سینکڑوں صفحات پر مشتمل دستاویزات تیار ہیں۔

ستمبر 2022ء میں جج کی طرف سے دائر کی گئی شکایت میں ٹرمپ، ان کے دو بیٹوں اور ٹرمپ فیملی گروپ سے ٹیکس اور مالی فراڈ کے الزام میں ہرجانے کے لیے 250 ملین ڈالر کے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پراسیکیوٹر نے ریپبلکن سیاست دان اور ان کے دو بیٹوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے بینکوں سے بہتر شرائط پر قرض حاصل کرنے کے لیے گروپ کے اثاثوں کی قیمتوں میں "جان بوجھ کر" ہیرا پھیری کی۔

30 اگست کو جیمز کی طرف سے سامنے آنے والی عدالتی دستاویزات کے مطابق ٹرمپ پر 2011ء سے 2021ء کے درمیان ہر سال "اپنے اثاثوں کی مالیت میں اربوں ڈالر کا جھوٹا اضافہ" کرنے کا شبہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں