برطانیہ میں تین میں سے ایک خاتون سرجن کو جنسی ہراساںی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ میں ایک تحقیق کے چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ایک تہائی خواتین سرجنز کو گذشتہ پانچ سال میں ساتھیوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے

برٹش جرنل آف سرجری کے ذریعہ شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’برطانیہ میں جراحی کے ماحول میں جنسی ہراسانی اور حملہ عام ہو سکتا ہے۔ خواتین سرجنز کی طرف سے عصمت دری کے واقعات رپورٹ کیے جاتے ہیں"۔

برطانیہ میں جراحی کے شعبوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے ایک گمنام آن لائن سروے کے 1,400 سے زیادہ جوابات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 29.9 فی صد خواتین نے پچھلے پانچ سالوں کے دوران اپنے ساتھی کے ذریعے جنسی زیادتی کی اطلاع دی۔ مردوں میں شکایت کرنےکی شرح 6.9 فی صد ہے۔

سروے میں شامل 63.3 فیصد خواتین نے کہا کہ انہیں ساتھیوں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، جبکہ مردوں میں یہ شرح 23.7 فیصد تھی۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ "یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ جراحی سے متعلق افرادی قوت میں خواتین اور مرد ایک مختلف حقیقت میں رہتے ہیں"۔

سروے کے مطابق تقریباً 90 فیصد خواتین اور 81 فیصد مردوں نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران اپنے ساتھیوں کے درمیان جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا مشاہدہ کیا ہے۔

کام پر عصمت دری کے علاو دوسرے کام سے متعلقہ سیاق و سباق میں ساتھیوں کے ذریعہ ریپ کیے جانے کی اطلاع دی۔ ہراسانی کے واقعات تدریسی سرگرمیوں، کانفرنسوں اور ساتھیوں کے ساتھ کام کے بعد کے دوران پیش آئے۔

سروے کے اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 11 فیصد خواتین کو "ملازمت کے مواقع سے متعلق زبردستی جسمانی رابطے" کا سامنا کرنا پڑا۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ "جنسی بد سلوکی کثرت سے ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جراحی کے ماحول میں اس کی جانچ پڑتال نہیں کی جاتی ہے جس کی وجہ داخلی درجہ بندی کے ڈھانچے سے متعلق عوامل اور صنفی مساوات اور طاقت کی تقسیم میں عدم توازن ہے"۔

انگلینڈ کے رائل کالج آف سرجنز میں خواتین میں سرجری فورم کی سربراہ تمزین کمنگ نے کہا کہ یہ نتائج سرجری میں "MeToo لمحے" کا دروازہ کھولتے ہیں۔

کمنگ نے برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ میں لکھا کہ "اب اصل کام صحت کی دیکھ بھال کے کلچر کو گہرائی سے تبدیل کرنے کے لیے شروع ہونا چاہیے۔

یہ سروے ورکنگ گروپ آن سیکسول مس کنڈکٹ ان سرجری (WPSMS) کی طرف سے کیا گیا تھا، جس میں NHS کنٹریکٹ سرجن، کلینشین اور محققین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں