بھارت:ریلائنس ریٹیل کی یواے ای،سعودی عرب اور سنگاپور سے مزید سرمائے کے لیے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کی ریلائنس ریٹیل سنگاپور، ابوظبی اور سعودی عرب کے خودمختار دولت فنڈ سمیت موجودہ سرمایہ کاروں کے ساتھ مزید ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

اس منصوبے کے بارے میں براہ راست معلومات رکھنے والے تین ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تینوں ممالک کے دولت فنڈ مجموعی طور پر 1.5 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کریں گے۔

ریلائنس ریٹیل بھارت کی سب سے بڑا خوردہ فروش کمپنی ہے اور ایشیا کے امیرترین شخص مکیش امبانی اس کے سربراہ ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں کے ساتھ یہ بات چیت ساڑھے تین ارب ڈالر اکٹھے کے ہدف کا حصہ ہے جسے کمپنی ستمبر کے آخر تک حتمی شکل دینا چاہتی ہے۔ اس میں سے کیو آئی اے نے گذشتہ ماہ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا اور کے کے آر اینڈ کمپنی نے اس ہفتے 25 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ سنگاپور کی جی آئی سی، ابوظبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے) اور سعودی عرب کا سرکاری سرمایہ کاری فنڈ (پی آئی ایف) ریلائنس ریٹیل میں کم سے کم 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

جی آئی سی، اے ڈی آئی اے نے اس معاملے پرتبصرے سے گریز کیا ہے، پی آئی ایف نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا جبکہ ریلائنس کا کہنا ہے کہ:’’ہم میڈیا کی قیاس آرائیوں اور افواہوں پر تبصرے نہیں کرتے ہیں‘‘۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ تینوں سرمایہ کاروں میں سے کچھ 50 کروڑ ڈالر سے بھی کم سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، اور فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے ایک یا دو مزید سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔

تینوں ذرائع میں سے پہلے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "تینوں سرمایہ کاروں نے کمپنی کا بہت سنجیدگی سے جائزہ لیا ہے۔ مگرحتمی سرمایہ کاری یا فنڈنگ کے منصوبے اب بھی تبدیل ہوسکتے ہیں‘‘۔

جی آئی سی، پی آئی ایف اور اے ڈی آئی اے دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کاری فنڈز میں شامل ہیں اوراس وقت وہ مل کر بھارتی ریٹیلر میں 4.4 فی صد حصص کے مالک ہیں۔دو ذرائع نے بتایا کہ ریٹیل شاخ کے مادر گروپ ریلائنس انڈسٹریز کا بھی 3.5 ارب ڈالر کے فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ ہے۔

ریلائنس گروپ نے 2020 میں اپنے ریٹیل یونٹ کے 10.09 فی صد حصص فروخت کیے تھے۔اس کی قیمت 46 کھرب روپے (56.4 ارب ڈالر) تھی۔ اس وقت جی آئی سی اور اے ڈی آئی اے نے 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی جبکہ پی آئی ایف نے موجودہ شرح تبادلہ کی بنیاد پر 1.15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ 2020 کے فنڈز کے معاہدوں میں ایک ایسی شق موجود تھی جس کے تحت موجودہ سرمایہ کاروں کو اپنے حصص حاصل کرنے کی اجازت تھی اور وہ سرمایہ کاری فنڈز میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہے تھے۔

مکیش امبانی کی ہندوستانی خوردہ سلطنت میں 18،000 سے زیادہ اسٹورز ہیں۔ان میں گروسری سے لے کر الیکٹرانکس تک کے آپریشنز شامل ہیں۔ اس میں مارکس اینڈ سپینسر جیسے برانڈز کے ساتھ شراکت داری بھی شامل ہے اور دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں سے ایک میں ایمیزون اور وال مارٹ کی فلپ کارٹ کے ساتھ مقابلہ ہے۔

گذشتہ ماہ امبانی نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’’کئی عالمی تزویراتی اور مالیاتی سرمایہ کاروں نے ان کی کمپنی میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے‘‘، لیکن انھوں نے کوئی نام نہیں بتایا تھا۔ 2019 میں ارب پتی نے کہا تھا کہ ان کا گروپ پانچ سال میں خوردہ کاروبار کے اسٹاک مارکیٹ میں اندراج کا ارادہ رکھتا ہے۔

ریلائنس ریٹیل نے مارچ 2023 میں ختم ہونے والے مالی سال کے لیے 26 کھرب روپے کی آمدنی پر 91.81 ارب روپے (1.11 ارب ڈالر) کا مجموعی خالص منافع ظاہر کیا تھا۔ اس نے اشیائے صرف کے کاروبار میں بھی قدم رکھا ہے، جو کوکا کولا اور یونی لیور جیسی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں