طالبان کے کابل میں اقتدار پر قبضے کے بعد افغانستان میں پہلے چینی سفیر کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین نے کابل میں طالبان کے اقتدار پرقبضے کے بعد افغانستان میں باضابطہ طور پر اپنا نیا سفیر مقرر کیا ہے۔اس طرح وہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے، جس نے طالبان انتظامیہ کے دور میں اپنا سفیر کابل میں بھیجا ہے۔

چینی سفیر نے بدھ کو کابل میں منعقدہ ایک تقریب میں طالبان حکومت کے قائم مقام سربراہ کو اپنی سفارتی اسناد پیش کردی ہیں۔طالبان انتظامیہ کو ہنوز کسی بھی غیر ملکی حکومت نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیاہے اور بیجنگ نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ آیا بدھ کو نئے سفیر کاتقرر طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی جانب کسی وسیع تر اقدام کا غماز ہے۔

نئے چینی سفیر کابل میں قائم مقام وزیر اعظم محمد حسن اخوند سے صدارتی محل میں مصافحہ کررہے ہیں۔
نئے چینی سفیر کابل میں قائم مقام وزیر اعظم محمد حسن اخوند سے صدارتی محل میں مصافحہ کررہے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں چین کے سفیر کا تقرر وتبادلہ معمول کا معاملہ ہے اور اس کا مقصد چین اور افغانستان کے درمیان بات چیت اور تعاون کو آگے بڑھانا ہے۔اس نے مزید کہا کہ افغانستان کے حوالے سے چین کی پالیسی واضح اور مستقل ہے۔

طالبان انتظامیہ کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ نئے سفیر ژاؤ شینگ اگست 2021 کے بعد کابل میں کسی بھی ملک کے پہلے سفیر ہیں جنھوں نے اپنا منصب سنبھالا ہے۔

طالبان انتظامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے ایک بیان میں کہا کہ قائم مقام وزیر اعظم محمد حسن اخوند نے کابل میں صدارتی محل میں منعقدہ ایک تقریب میں نئے چینی سفیر سے اسناد وصول کی ہیں۔طالبان انتظامیہ کے ترجمان کے دفتر نے اس تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کی ہیں جس میں سفیر کا استقبال ملّا حسن اخوند اور قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت حکام نے کیا۔

کابل میں نئے چینی سفیر ژاؤ شینگ کا سفارتی اسناد پیش کرنے کے موقع پر طالبان نے پُرتپاک استقبال کیا ہے۔
کابل میں نئے چینی سفیر ژاؤ شینگ کا سفارتی اسناد پیش کرنے کے موقع پر طالبان نے پُرتپاک استقبال کیا ہے۔

افغانستان میں چین کے سابق سفیر وانگ یو نے 2019 میں اپنا عہدہ سنبھالا تھا اورانھوں نے گذشتہ ماہ اپنی مدت پوری کی تھی۔کابل میں اس وقت دیگرممالک کے سفارت کار بھی تعینات ہیں جنہیں سفیر کا لقب حاصل ہے لیکن وہ سب طالبان کے اقتدار پرقبضے سے قبل ان عہدوں پر فائز ہوئے تھے اور بدستور کام کرتے چلے آرہے ہیں۔

پاکستان اور یورپی یونین جیسے دیگر ممالک اور اداروں نے ’ناظم الامور‘‘ کا لقب استعمال کرنے والے سینیر سفارت کاروں کو سفارتی مشنوں کا سربراہ مقرر کررکھا ہے اور انھیں میزبان ملک کی قیادت کو سفارتی اسناد پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں