ایران کے خلاف پابندیوں کے جواب میں آسٹریلوی ناظم الامور وزارتِ خارجہ میں طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی وزارتِ خارجہ نے تہران میں متعیّن آسٹریلیا کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اور ان سے 'مداخلت پسندانہ بیان' اور مختلف شخصیات اور اداروں پر پابندیوں کے نفاذ کےخلاف احتجاج کیا ہے۔

آسٹریلیا نے بدھ کے روز ایران میں خواتین اور لڑکیوں سمیت لوگوں پر جبرواستبداد کے ذمے دار چار افراد اور تین اداروں پر مالی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے علاوہ ان افراد پر سفری پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

آسٹریلیا نے ایران کی پولیس کے ترجمان سعید المنتظرالمہدی پرتازہ پابندیاں عاید کی ہیں۔اس کے علاوہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں ایران کی سائبرپولیس اور سرکاری پریس ٹی وی بھی شامل ہیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس اعلان کے بعد جمعرات کو تہران میں’’آسٹریلوی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اورانھیں آسٹریلیا کی ایران کے داخلی امور میں مداخلت اور پابندیوں کے خلاف ملک کے سخت اعتراضات سے آگاہ کیا ہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے پابندیوں کا اعلان ایرانی پولیس کی حراست میں مہساامینی کی ہلاکت کی پہلی برسی سے قبل سامنے آیا ہے۔22سالہ ایرانی کرد امینی کو 16 ستمبر2022 کو تہران میں خواتین کے لیے سخت ضابطہ لباس کی مبیّنہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارکیا گیا تھا اور وہ اس کے تین روز بعد پولیس کے زیرحراست وفات پاگئی تھیں۔

ان کی ہلاکت کے ردعمل میں گذشتہ سال ہونے والے مظاہروں میں دسیوں سکیورٹی اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ایرانی حکام نے غیرملکیوں پر ملک میں فسادات کو بھڑکانے کا الزام عاید کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں