صدرپوتین نے شمالی کوریا کے دورے کی دعوت قبول کرلی؛کریملن کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کے صدر ولادی میر پوتین نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی ان کے ملک کے دورے کی دعوت شکریے کے ساتھ قبول کر لی ہے۔

پوتین اور کم جونگ اُن نے روس کے دور دراز مشرقی علاقے آمور میں بدھ کو ملاقات کی ہے۔اس ملاقات نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ ماسکو اور پیانگ یانگ کا محور یوکرین میں روسی فوج کو مضبوط بنا سکتا ہے اورکم جونگ اُن کو حساس میزائل ٹیکنالوجی مل سکتی ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’کم جونگ اُن نے صدر پوتین کو شمالی کوریا کے دورے کی دعوت دی ہے اور انھوں نے اس دعوت کو شکرگزاری کے ساتھ قبول کر لیا ہے‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لافروف کا اگلے ماہ پیانگ یانگ کا دورہ متوقع ہے۔

انھوں نے کہاکہ اعلیٰ سطح پر یہ رابطے بہت تعمیری تھے۔شمالی کوریا ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور دیگر ہمسایوں کی طرح روس بھی باہمی احترام پر مبنی اچھے تعلقات اور باہمی مفاد میں تعاون کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کم اور پوتین نے بدھ کو ملاقات میں فوجی امور، یوکرین کی جنگ اور شمالی کوریا کے سیٹلائٹ پروگرام کے لیے روس کی مدد پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ پوتین نے کم جونگ ان کو روس کی جدید ترین خلائی لانچ کی تنصیب کے بارے میں بھی بتایا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دونوں رہ نماؤں نے تحائف کا تبادلہ کیا ہے، پیسکوف نے بتایا کہ صدر پوتین نے کم جونگ اُن کو ایک خلائی سوٹ کے دستانے اور روسی ساختہ رائفل دی تھی۔یہ خلائی سوٹ کئی مرتبہ خلا میں جاچکا ہے۔اس کے بدلے میں کم جونگ ان نے صدر پوتین کو دیگر تحائف کے علاوہ شمالی کوریا کی ساختہ بندوق پیش کی تھی۔

ترجمان نے بتایا کہ صدر پوتین اب ماسکو واپس آ چکے ہیں،انھوں نے جمعرات کو روس کی سلامتی کونسل کو کم جونگ ان کے ساتھ اپنی بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کے رہ نما کا روس کا دورہ مزید کئی روز تک جاری رہے گا لیکن انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

روسی صدر نے قبل ازیں کہا تھا کہ کم جونگ ان جمعرات کو روسی شہر کومسومولسک آن امور میں فوجی اور سویلین ایوی ایشن فیکٹریوں کا دورہ کرنے والے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ولادی ووستوک میں روس کے بحرالکاہل میں بیڑے کا معائنہ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں