لیبیا میں سیلاب سے تباہی، درنہ شہر کے سیٹلائٹ سے لیے گئے دل دہلا دینے والے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے شہر درنہ کے ساحل کے قریب پھیلے بیشتر محلے چند لمحوں کے اندر ’ڈینیئل‘نامی تباہ کن طوفان سے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔

تمام گلیاں اورسڑکیں سیلاب سے ڈھک گئیں اور پورے علاقے کو کیچڑ کے وسیع ڈھیر میں تبدیل کر دیا تھا۔

درنہ
درنہ

سب سے بڑی آفت

سیٹلائٹ تصاویر میں لیبیا میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی کی ہولناکی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

سیٹیلائٹ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ساحلی شہر ایک آفٹر شاک میں تبدیل ہوا۔

تصاویر میں سیلاب کے نتیجے میں دو پرانے ڈیم ٹوٹنے کے بعد 90,000 کی آبادی والے درنہ شہر میں ہونے والی تباہی کی حد کو بھی دکھایا گیا ہے۔

المرج شہر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس شہر کے سیٹیلائٹ سے سیلاب سے پہلے اور بعد میں شہر کی تصاویرجاری کی گئی ہیں۔ ان تصاویر میں زرعی زمینوں اور کھیتوں کو ہونے والی تباہی کی حد کو دکھایا۔

مشرقی لیبیا کی پارلیمنٹ سے وابستہ حکومت میں وزیر خارجہ عبدالہادی الحویج نے اس سے قبل کہا تھا کہ سیلاب کے نتیجے میں درنہ کا تقریباً ایک تہائی حصہ ملیا میٹ ہوگیا جس میں ہزاروں افراد کی جانیں گئیں۔ خدشہ ہےکہ مرنے والوں کی تعداد تقریباً 40,000 تک پہنچ جائے گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سمندری طوفان سے متاثرہ علاقے کا قدرتی ماحول، نیز ایک وادی اور سمندر میں گہرے درنہ شہر کا محل وقوع، وہ تمام عوامل ہیں جنہوں نے نقصان کی شدت میں اضافہ کیا۔ مزید تباہی سیلاب کے نتیجے میں وہاں دو ڈیموں کے ٹوٹنے سے بھی ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں