گدھے مراکش کے زلزلے سے تباہ دور افتادہ دیہاتوں میں امداد پہنچانے کا واحد ذریعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ ہفتے کی صبح مراکش کے زلزلے سے متاثر ہونے والے دیہاتوں میں کئی سڑکوں کی مسلسل بندش اور مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے بہت سے مراکشی دیہاتیوں کو امداد پہنچانے کا کوئی راستہ نہیں۔ شہری اب اپنی مدد آپ کے تحت امداد پہنچانے کے لیے قدی طریقوں کا سہارالینے پر مجبور ہیں۔

سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے لیے اپنےعزیز واقارب کے گھروں تک پہنچنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔ لوگ سفر کے لیے بھی گدھوں کا استعمال کرتے ہیں

مراکش میں گدھے الگ تھلگ دیہات کی مدد کرتے ہیں (رائٹرز)
مراکش میں گدھے الگ تھلگ دیہات کی مدد کرتے ہیں (رائٹرز)

لینڈ سلائیڈنگ

کوہ اطلس کئ دور افتادہ گاؤں اکندیز میں 42 سالہ ایدو حماد محمد اپنے گاؤں تک پہنچانے کے لیے امدادی سامان کے پیکجوں کو چھانٹ رہا تھا، جو 12 کلومیٹر دور واقع ہے اور صرف گدھے کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہے۔

رائٹرز کےمطابق اس نے شکایت کرتےہوئے کہا کہ ابھی تک گاؤں میں کوئی سرکاری اہلکار نہیں پہنچا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میرے گاؤں میں بہت سے لوگ مر گئے۔ کچھ خاندانوں نے اپنے 15 رشتہ داروں کو کھو دیا، دوسروں نے 12 یا 7 کو کھو دیا"۔

انہوں نے لوگوں کی خیموں کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ کافی نہیں ہے۔ خاندان کھلے آسمان تلے رات اور دن گذارتے ہیں۔ ان کے پاس صرف کمبل تک نہیں۔"

چالیس سالہ عبداللہ حسین نے کوہ اطلس کے اپنے گاؤں زاویت کی صورت حال بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہاں کوئی سڑک نہیں بچی ہے اور پہاڑ سے گرنے والی چٹانوں کو کوئی نہیں ہٹا سکتا۔"

مراکش میں گدھے الگ تھلگ دیہات کی مدد کرتے ہیں (رائٹرز)
مراکش میں گدھے الگ تھلگ دیہات کی مدد کرتے ہیں (رائٹرز)

انہوں نے مزید کہا کہ "زلزلے کے بعد یہ چھٹا دن ہے۔ ہم ابھی تک کھلےآسمان تلے سو رہے ہیں اور ہمارے پاس سایہ دینے والی کوئی چیز نہیں۔"

گاؤں میں صرف دو بار سفر

عبداللہ حسین نے کہا کہ وہ گدھوں پر دن میں گاؤں کے صرف دو چکر لگا سکتے ہیں۔

پہاڑی دیہاتوں تک پہنچنے والے بہت سے سامان کو عام شہریوں نے جانوروں کے ذریعے پہنچایا۔

کچے خطوں اور تباہ شدہ سڑکوں نے حکومتی ردعمل کو مشکل بنا دیا ہے، کچھ سب سے زیادہ متاثرہ گاؤں امداد حاصل کرنے کے لیے سب سے آخر میں ہیں۔

مراکش میں گدھے الگ تھلگ دیہات کی مدد کرتے ہیں (رائٹرز)
مراکش میں گدھے الگ تھلگ دیہات کی مدد کرتے ہیں (رائٹرز)

امدادی کارکنوں کو اطلس پہاڑی علاقے کے سب سے زیادہ متاثرہ دیہاتوں تک پہنچنے کے لیے ایک چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ ایک ناہموار پہاڑی سلسلہ ہے جہاں رہائشی علاقے اکثر دور دراز ہوتے ہیں، اور جہاں بہت سے مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔

ان علاقوں میں تنگ کچی سڑکوں کی وجہ سے ایمبولینسوں اور امدادی گاڑیوں کا پہنچنا مشکل ہو گیا۔ چٹانوں اور لینڈسلائیڈنگ نے ہرطرف سڑکیں بند کر رکھی ہیں۔

الحوز صوبہ جو زلزلے کا مرکز تھا۔ یہ زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے اور اس کے رقبے کا تقریباً تین چوتھائی پہاڑ ہیں۔

اس میں افریقہ کا دوسرا بلند ترین پہاڑ اور اطلس پہاڑوں کی سب سے اونچی چوٹی بھی شامل ہے جو ماؤنٹ توبقال کہلاتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وزارت داخلہ کی طرف سے اعلان کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بدھ تک زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2,946 ہوچکی ہے جب کہ 5,674 زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں