بندوق اور خلائی دستانے، پوتین کے کم جونگ اُن کو عجیب تحائف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیانگ یانگ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے شمالی کوریا کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے۔ پوتین کو یہ دعوت شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے بدھ کے روز روس میں ہونے والی ان سے ملاقات میں دی تھی۔

کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تحائف کا تبادلہ کیا روسی صدر ولادیمیر پوتین اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ملاقات کے دوران ایک دوسرے کو رائفل دی۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ پوتین نے کم جونگ اُن کو بہترین معیار کی روسی ساختہ رائفل دی۔ بدلے میں کریملن کے سربراہ نے کم جونگ اُن سے شمالی کوریا میں بنی رائفل وصول کی۔

کریملن نے مزید کہا کہ پوتین نے کم جونگ اُن کو ایک دستانہ بھی دیا جو اس خلائی سوٹ کا حصہ ہے جو کئی بار خلا میں استعمال ہوا تھا۔ یہ تبادلہ روس کے مشرق بعید میں ووسٹوچنی کاسموڈروم میں ملاقات کے بعد ہوا۔

اس کے بعد دونوں نے انگارا خلائی جہاز کے سٹیشن کا دورہ کیا۔ ’’سویوز ٹو‘‘ لانچ کرنے کے کمپلیکس اور انگارا لانچ کمپلیکس کا دورہ کیا۔ کم جونگ اُن نے کہا کہ ان کا دورہ ’’کووڈ 19‘‘ کی وبا کے بعد ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ شمالی کوریا روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو سٹریٹجک اہمیت دیتا ہے۔

مبصرین کے مطابق خلائی اڈے پر ہونے والی ملاقات نے ایک علامتی جہت اختیار کی ہے خاص طور پر جب سے پیانگ یانگ حال ہی میں دو مرتبہ فوجی جاسوس سیٹلائٹ کو مدار میں رکھنے کی کوشش میں ناکام ہوا تھا۔

واضح رہے روس شمالی کوریا کے توپ خانے کے گولوں کے ذخیرے تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف پیانگ یانگ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور سوویت دور سے تعلق رکھنے والے اپنے فوجی ساز و سامان کو جدید بنانے میں مدد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں