امن مذاکرات کے لئے حوثیوں کو سعودی عرب کی دعوت قابل تعریف ہے: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاوس نے حوثیوں کو امن مذاکرات کی دعوت دینے پر سعودی عرب کی کوششوں کا خیر مقمد کیا ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہم اس حالیہ اقدام کےلیے سعودی قیادت کو سراہتے ہیں اور عمان کی قیادت کی جانب سے اہم کردار پر شکریہ ادا کرتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کو یمنی فریقین اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر امن کوششوں میں سفارتی سپورٹ کی فراہمی پر فخر ہے‘۔

یاد رہے یمن میں امن کی امیدیں جمعرات کو اس وقت بڑھ گئیں جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا دس رکنی وفد مذاکرات کے لیے ریاض پہنچا۔

اس سے قبل حوثی سیاسی سربراہ مہدی المشاط کا کہنا تھا کہ ’وفد سعودی فریق کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے کے لیے ریاض جائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’امن ہمارا پہلا آپشن تھا اوراب بھی پے اور اس کے حصول کےلیے سب کو کام کرنا چاہیے‘۔

ریاض اور صنعا کے درمیان عمان کی ثالثی میں ہونے والی مشاورت کا پہلا دور جو اقوام متحدہ کی امن کوششوں کے متوازی چل رہا ہے اپریل میں اس وقت منعقد ہوا جب اس سال اپریل میں سعودی سفیر نے صنعا کا دورہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی گذشتہ اکتوبر میں ختم ہونے کے باجود بڑی حد تک برقرار ہے۔

اب سعودی عرب نے یمن کے تمام فریقوں کے لیے قابل قبول پائیدار سیاسی حل تک رسائی کے لیے جاری بحث مباحثہ مکمل کرنے کے لیے صنعا کے وفد کو مملکت آنے کی دعوت دی۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ نیا دعوت نامہ مارچ 2021 میں جاری کردہ سعودی انشیٹو کی توسیع ہے۔

ادھر یمنی حکومت نے کہا ہے کہ ’وہ یمنی عوام کے انسانی مصائب کا بوجھ کم کرنے اور امن اپیلوں کا سنجیدگی سے جواب دینے کی خاطر بین الاقوامی کوششوں، سعودی عرب اور سلطنت عمان کی مساعی کا خیر مقدم کرتی ہے‘۔

یمنی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مبنی برانصاف مکمل امن کے قیام کے حوالے سے کیے جانے والے تمام اقدامات کے لیے اس کے دل و دماغ کے دروازے کھلے ہیں‘۔

’یمنی حکومت چاہتی ہے بغاوت کا خاتمہ اور ریاستی ادارے بحال ہوں۔ یمن میں امن واستحکام و ترقی کا دور واپس آئے‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں