مراکش میں سوشل میڈیا ’انفلوئنسرز‘ پرکم عمری کی شادی کی ترویج کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکے کچھ صارفین جو خود کو "انفلوئنسز" کہتے ہیں مراکش میں عوامی حلقوں کی طرف سے تنقید کی زد میں ہیں کیوں ان پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کم عمر بچیوں کی شادیوں کی ترویج کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پرمراکشی باشندوں نے تصدیق کی کہ زلزلے کی وجہ سے "انسانی تباہی کا شکار" علاقوں میں یہ کارکنان نابالغوں کا "حیرت انگیز انداز" میں استحصال کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

"مراکش کی آواز" ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان سے اس بنیاد پر شادی کرنے کا مطالبہ کیا کہ وہ "معاشی طور پر سستے" ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے نابالغوں کی شادی کی تشہیر میں ملوث کچھ لوگوں کے نام اور تصاویر بھی ظاہر کیں۔

کچھ ویڈیوز میں ایک نوجوان کو کم عمر لڑکیوں کے ساتھ تصویریں کھینچتے اور ان سے پوچھتے ہوئے دکھایا گیا کہ کیا وہ گھر کے کام میں اچھی ہیں؟

کل جمعرات کو الرشیدیہ شہر میں ریجنل جوڈیشل پولیس سروس یونیورسٹی کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں ایک 20 سالہ طالب علم کو اشتعال انگیز مواد شائع کرنے میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کیا۔

مراکش کے صوبہ الحوز سے (رائٹرز)
مراکش کے صوبہ الحوز سے (رائٹرز)

کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ ان گائوں کی لڑکیوں سے شادی کرنے کے لیے ان خامیوں کا فائدہ اٹھایا جائے گا۔

دریں اثنا،بلاگرز نے عدالتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کے ساتھ "چھیڑ چھاڑ" کو روکنے کے لیے مداخلت کریں اور اس کو فروغ دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مراکش کے عائلی ضابطہ کار کے باب 19 مجریہ 2004 میں وضاحت کی گئی ہے کہ 18 سال سے کم عمرلڑکیوں کی شادی غیر قانونی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں