ناگواربو اور ہوٹلوں میں پابندی کے باوجود’ڈوریان‘ پھل کی مانگ میں400 فیصد اضافہ کٰیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین میں ایک بدبُو چھوڑنے والا پھل ’ڈوریان‘ نا پسندیدہ ہونے کے باوجود اس کی مانگ میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

ایچ ایس بی سی بینک کے مطابق اس پھل کی عالمی مانگ میں سال بہ سال 400 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی حد تک چین میں "دیوانہ وار " مانگ دیکھی گئی ہے۔

ہفتے کے آغاز میں بینک کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے "گذشتہ دو سالوں کے دوران چین نے 6 ارب ڈالر مالیت کا ڈوریان پھل درآمد کیا ہے، جو عالمی طلب کا 91 فیصد ہے۔"

ڈوریان کی مانگ میں تیزی زیادہ تر چین میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں صارفین اسے صرف ایک پھل کے طور پر نہیں بلکہ دینے والے کے لیے اپنی دولت ظاہر کرنے کے لیے ایک تحفہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مزید برآں چین میں منگنی کے موقع پر دوستوں اور رشتہ داروں کو تحفے کے طور پر ڈوریان کو شامل کرنا عام ہو گیا ہے۔

HSBC کے اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ چین میں ڈوریان کی مانگ میں تیزی 2017 کے اوائل میں شروع ہوئی تھی، لیکن مانگ میں اضافہ صرف 2022 کے آخر تک ہی پورا ہوا۔

یہ پھل جسے ماہرین "پھلوں کی ملکہ" کہتے ہیں چین میں 10 ڈالر فی کلو سے زیادہ میں فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں اس کی قیمت اوسطاً 6 ڈالر فی کلو ہے۔

مانگ میں اس اضافے کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ایسوسی ایشن آف جنوب مشرقی ایشیائی ممالک (ASEAN) میں ہے، جس کا 2022 میں دنیا کی 90 فیصد ڈوریان برآمدات تھیں۔

10 ممالک پر مشتمل جنوب مشرقی ایشیاء کے بلاک میں صرف تھائی لینڈ ہی 99 فیصد ڈوریان برآمدات کرتا ہے ،ان میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویت نام شامل ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو امریکی "سی این بی سی" کی ایک رپورٹ کے مطالعے سے گذری ہے۔ ایچ ایس بی سی بینک میں آسیان کی معیشتوں کے ماہر اقتصادیات، آریس ڈاکنائی کا کہنا ہے کہ ڈوریان کی مانگ میں نمایاں اضافہ جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ کے لیے سمیت باقی ممالک کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ"چین میں مارکیٹ اتنی بڑی ہے کہ دوسرے آسیان ممالک کے لیے اس میں کودنے اور مقابلہ کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے"۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کا آزادانہ تجارتی معاہدہ، جس میں چین، جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے علاوہ آسیان بلاک شامل ہے، شرکاء کو چینی مارکیٹ تک آزادانہ اور زیادہ مساوی رسائی فراہم کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں